سولر پینل اور اسٹیشنری پر ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ
عوام کے لیے ایک بڑی امداد کے طور پر حکومت نے سولر پینلز، اسٹیشنری کی اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد موجودہ ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز کو عوامی مفاد میں واپس لے لیا گیا ہے، جبکہ اسٹیشنری اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز اب بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ کی تیاری میں بھرپور ساتھ دینے پر تمام اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور آئی ایم ایف (IMF) کی معاونت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت نے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کے فیصلوں کی بھرپور تائید کی۔
درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس بڑھنے کا امکان
نئے بجٹ میں گاڑیوں کے ٹیکس نظام میں درج ذیل اہم تبدیلیاں متوقع ہیں:
- درآمدی الیکٹرک گاڑیاں (EVs): ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کے تحت درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے۔
- لوکل الیکٹرک گاڑیاں: مقامی سطح پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف دیا جائے گا جس سے یہ گاڑیاں نسبتاً سستی ہونے کی امید ہے۔
- ہائبرڈ اور روایتی گاڑیاں: ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس کی شرح برقرار رہے گی، جبکہ روایتی ایندھن (پٹرول/ڈیزل) پر چلنے والی بڑی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس سے ان کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب ملک کو معاشی استحکام کی سخت ضرورت ہے اور حکومت عوامی ریلیف اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Comments
Post a Comment