پاکستان میں کام کرنے والے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد شدید معاشی اور سیاسی عوامل کے باعث بری طرح متزلزل ہو گیا ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICC&I) کے تازہ ترین بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق، ملک کے 70 سے 80 فیصد کاروباری اداروں نے موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو یا تو مؤخر کر دیا ہے یا وہ ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
بزنس کانفیڈنس انڈیکس میں نمایاں کمی
او آئی سی سی آئی کی جانب سے سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق، ملک میں مجموعی کاروباری اعتماد میں 9 فیصد پوائنٹس کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ مثبت 22 فیصد سے گر کر محض مثبت 13 فیصد پر آ گیا ہے۔ کاروباری برادری کے مطابق، اعتماد میں اس گراوٹ کی سب سے بڑی وجوہات میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کی رکاوٹیں اور حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل شامل ہیں۔
شعبہ جاتی صورتحال اور بڑے خطرات
سروے کے مطابق مختلف شعبوں میں کاروباری اعتماد ملا جلا رہا ہے، جہاں سروسز اور مینوفیکچرنگ بدترین متاثر ہوئے وہیں ریٹیل سیکٹر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی:
- سروسز اور مینوفیکچرنگ: خدمات (Services) کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس کی بھاری کمی کے ساتھ مثبت 14 فیصد پر آگیا، جبکہ مینوفیکچرنگ میں 7 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
- ریٹیل سیکٹر: ریٹیل واحد شعبہ رہا جہاں اعتماد 3 پوائنٹس کی بہتری کے ساتھ مثبت 20 فیصد تک پہنچا۔
- سب سے بڑے خطرات: 84 فیصد اداروں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، 79 فیصد نے بھاری ٹیکسز اور 61 فیصد نے روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کو کاروباری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ اس کے علاوہ 34 فیصد مالکان کا ماننا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں معاشی حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) میں بڑھتی دلچسپی
او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبد العلیم کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کے لیے ماحول انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے، تاہم اس قلیل مدتی دباؤ کے باوجود ملکی و عالمی کمپنیاں پاکستان میں ایک نئی جہت پر کام کر رہی ہیں۔ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے استعمال میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً بڑی غیر foreign کمپنیوں نے اپنے بنیادی کاروباری عمل، ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور افرادی قوت (Staff) کی تربیت کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی بھرپور تیاری ظاہر کی ہے جو کہ ایک مثبت اشاریہ ہے۔
واضح رہے کہ یہ سروے سال میں دو بار منعقد کیا جاتا ہے اور اس میں شامل کمپنیاں پاکستان کی کل جی ڈی پی (GDP) کے تقریباً 80 فیصد حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Business Confidence Plummets in Pakistan: 80% Firms Delay Investment Plans
According to the latest Business Confidence Index (BCI) survey Wave 29 conducted by the Overseas Investors Chamber of Commerce and Industry (OICC&I) for Q2 2026, business sentiments in Pakistan have severely deteriorated. Nearly 70% to 80% of local and multinational corporate firms have suspended or are restructuring their upcoming investment initiatives due to macroeconomic headwinds.
Sharp Decline in BCI Outlay
The overarching business confidence index dropped by 9% points, sliding down to positive 13% from its earlier mark of positive 22% in Wave 28. Business executives cited surging inflation, escalating fuel prices, global supply chain breakdowns catalyzed by Middle East tensions, and fiscal policy fluctuations as primary drivers for the worsening financial ecosystem.
Sector-wise Impact and High-Tech AI Adjustments
The services sector faced the sharpest blow, collapsing 20 points down to positive 14%, while manufacturing shed 7 points. Conversely, retail managed a minor 3-point expansion to settle at positive 20%. Interestingly, despite structural hazards like high taxation (79% concern) and currency volatility (61% concern), a vast majority of corporations are actively preparing to integrate Generative Artificial Intelligence (AI) platforms to modernize operations and upgrade workforce capabilities.
OICCI's data remains crucial as its surveyed member corporations collectively comprise roughly 80% of Pakistan's national GDP framework.
Comments
Post a Comment