آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کو موجودہ 60 روپے کی حد سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ملک میں پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں یکمشت بڑا اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب نان فائلر تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی بجٹ کا حصہ بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس کی شرح اور سلیبز
وفاقی حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے لیے ان کی سالانہ سیلز کی بنیاد پر فکسڈ ٹیکس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مختلف تجارتی کیٹیگریز کے لیے سلیبز تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہر سطح کے کاروبار سے منصفانہ ٹیکس وصول کیا جا سکے:
- پہلا سلیب: سالانہ 10 کروڑ روپے تک کا کاروبار یا فروخت کرنے والے تاجروں پر 20 سے 25 ہزار روپے سالانہ فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
- دوسرا سلیب: جن تاجروں کی سالانہ سیلز 10 کروڑ روپے سے زائد اور 20 کروڑ روپے تک ہے، انہیں سالانہ 40 سے 50 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
- آڈٹ سے چھوٹ: اس فکسڈ ٹیکس اسکیم کو قبول کرنے اور بروقت ادائیگی کرنے والے رجسٹرڈ تاجروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے روایتی انکم ٹیکس آڈٹ سے مکمل استثنا دیا جائے گا۔
پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا ہدف اور معاشی اثرات
آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے باعث حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں ریونیو جمع کرنے کے اہداف کو بڑھانے پر مجبور ہے۔ پیٹرولیم لیوی کو 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے سے حکومت کو اربوں روپے کا اضافی ہدف حاصل ہوگا، تاہم اس اقدام سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں براہِ راست اضافہ ہوگا جو کہ عام عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال سکتا ہے۔ فنانس بل کی تیاری کے دوران ان تمام تجاویز پر حتمی منظوری وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم سے لی جائے گی۔
اس نئے ترمیمی بل کے ذریعے حکومت کا مقصد ٹیکس چوری کا سدِباب کرنا اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنانا ہے، جس کے لیے کاروباری تنظیموں کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment