پنجاب پر سب سے بڑا بوجھ اور خاندانی ماحول کی پوشیدہ مشقت
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، چائلڈ لیبر کا سب سے زیادہ بوجھ صوبہ پنجاب پر ہے، جہاں 60 لاکھ بچے سکول جانے کے بجائے مختلف جگہوں پر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے بعد سندھ میں 16 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار، بلوچستان میں 2 لاکھ سے زائد جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 15 ہزار سے زائد بچے مشقت کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔
اس کہانی کا سب سے بڑا انسانی اور پوشیدہ پہلو یہ ہے کہ بچوں سے کروائی جانے والی مزدوری کا ایک بڑا حصہ خاندانی ماحول کے اندر یعنی خاندانی کھیتوں، دکانوں اور ورکشاپس میں انجام پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بچے سرکاری لیبر انسپکشن اور نگرانی کے نظام سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔ اس مشقت کی وجہ سے 32 سے 58 فیصد بچے کام کے دوران کسی نہ کسی چوٹ یا مستقل بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے محنت کش بچوں کی ایک تہائی تعداد شدید ڈپریشن اور ذہنی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
آئین کیا کہتا ہے؟ وفاقی وزیر اور سپریم کورٹ کا مؤقف
رپورٹ کے اجرا کے موقع پر سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے حکومت اور سماجی رویوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے آئین کے اہم قوانین کی یاد دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب اور نظر انداز کیے گئے بچوں سے آنکھیں نہ چرائے۔ وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ عام تصور اور سرکاری اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے اور اس کے حل کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ بجٹ اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔
آئینی قوانین اور سابقہ ریکارڈ کا پسِ منظر (Evergreen Context):
پاکستان کا آئین بچوں کے حقوق اور تعلیم کے حوالے سے ریاست پر بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے، لیکن ان قوانین پر عملدرآمد کی شرح ہمیشہ سے مایوس کن رہی ہے:
- آئین کا آرٹیکل 11 (Article 11): یہ قانون واضح طور پر 14 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو کارخانوں، مائنز یا کسی بھی دوسرے خطرناک پیشے میں ملازمت دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔
- آئین کا آرٹیکل 25-اے (Article 25-A): یہ آرٹیکل ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔
- ماضی کا آخری سروے (1996): پاکستان میں چائلڈ لیبر کا آخری جامع سروے 1996 میں کیا گیا تھا۔ گزشتہ 30 سالوں سے ملکی پالیسی ساز پرانے اور نامکمل ڈیٹا پر پالیسیاں بناتے رہے، جو کہ حکومتی عدم دلچسپی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: یہ رپورٹ اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت اور تیز رفتار آبادی نے معصوم بچوں سے ان کا بچپن چھین کر انہیں کارخانوں اور بھٹوں کا ایندھن بنا دیا ہے۔ جب تک ریاست تعلیم کے بجٹ میں اضافہ نہیں کرے گی اور آئین کے آرٹیکل 25-A پر سختی سے عمل نہیں ہوگا، تب تک قلم پکڑنے والے ہاتھ یوں ہی ہتھوڑے چلاتے رہیں گے۔

Comments
Post a Comment