"یوں لگا جیسے بم دھماکہ ہوا ہو" — مسافروں کی زبانی خوفناک منظر
حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جو کچھ بتایا، وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ ٹرین کی اگلی بوگی میں سوار ڈاکٹر پیٹر نے بتایا: "جب ٹرینیں ٹکرائیں تو ایک زوردار دھماکہ ہوا، بوگی کی تمام سیٹیں اکھڑ گئیں اور یوں لگا جیسے ہم کسی بم دھماکے کا شکار ہو گئے ہوں۔ ہر طرف دھواں تھا، لوگوں کے چہرے خون سے لت پت تھے اور مسافروں کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں، کچھ لوگ منہ سے خون تھوک رہے تھے۔" ایک اور خاتون مسافر، جو اپنی سالگرہ منا کر لندن جا رہی تھیں، نے روتے ہوئے بتایا کہ آنکھ کھلتے ہی انہوں نے فرش پر صرف لاشیں اور خون دیکھا۔
برطانوی ٹرانسپورٹ سیکرٹری ہیڈی الیگزینڈر نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ جدید ترین برطانوی ریلوے سسٹم پر یہ چوک کیسے ہوئی۔
تبصرہ و تجزیہ: دنیا کے محفوظ ترین ریلوے نیٹ ورک پر بڑا سوالیہ نشان
برطانوی حکام کا دعویٰ ہے کہ یوکے کا ریلوے نیٹ ورک دنیا کے محفوظ ترین نیٹ ورکس میں سے ایک ہے اور وہاں اس قسم کے حادثات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیکن ایک ہی کمپنی کی دو ٹرینوں کا ایک ہی ٹریک پر آ جانا سگنلنگ سسٹم کی ایک بہت بڑی اور مجرمانہ غفلت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ حادثہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی جدید ہو جائے، انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی پروٹوکولز میں معمولی سی سستی بھی کس قدر ہولناک تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
برطانیہ کے بدترین ٹرین حادثات کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اگرچہ برطانوی ریلوے کو محفوظ مانا جاتا ہے، لیکن ماضی کے یہ بڑے حادثات اس اسٹوری کو تاریخی پسِ منظر فراہم کرتے ہیں:
- ہیرو اینڈ ویلڈ اسٹون حادثہ (1952): یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بدترین ٹرین حادثہ تھا، جہاں تین ٹرینیں آپس میں ٹکرائی تھیں اور 112 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
- لیڈ بروک گروو حادثہ (1999): لندن کے قریب دو ٹرینوں کے تصادم میں 31 افراد جان سے گئے تھے، جس کی وجہ سگنل کی خرابی اور ڈرائیور کی غلطی بتائی گئی تھی۔
- سٹون ہیون حادثہ (2020): اسکاٹ لینڈ میں مٹی کا تودہ گرنے سے ٹرین پٹری سے اتری تھی، جس میں ڈرائیور اور کنڈکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اس ہولناک تصادم کے بعد لندن جانے والا پورا ریلوے روٹ معطل کر دیا گیا ہے اور مسافروں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ برطانوی عوام اب ریلوے یونینز کے ساتھ مل کر اس حادثے کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment