کیو لہولہان! روسی حملوں میں 9 ہلاک، گیارہویں صدی کا تاریخی گرجا گھر ملبے کا ڈھیر

Smoke and flames rising from the partially destroyed roof of the historic 11th-century Dormition Cathedral in Kyiv
روس اور یوکرین کی جنگ ایک ایسے بھیانک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اب انسانوں کے ساتھ ساتھ دنیا کا صدیوں پرانا تاریخی اور مذہبی ورثہ بھی محفوظ نہیں رہا۔ پیر کی صبح روس کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے ایک بڑے سیلاب نے یوکرینی دارالحکومت کیو (Kyiv) سمیت کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان ہولناک حملوں میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں خارکیف میں لگی آگ بجھانے والے 5 ریسکیو اہلکار بھی شامل ہیں۔ لیکن اس حملے نے جس واقعے کو عالمی سطح پر سنگین تنازع بنا دیا، وہ کیو کے ایک تاریخی گرجا گھر کا ملبے کا ڈھیر بننا ہے۔

مسیحی ثقافت پر بڑا حملہ یا یوکرین کی اپنی غلطی؟ بیانات کا تضاد

اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں کیو کا مشہور گیارہویں صدی کا "ڈورمیشن کیتھیڈرل" (Dormition Cathedral) شدید تباہی کا شکار ہو گیا اور اس کی چھت پر آگ بھڑک اٹھی۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اسے مسیحی ثقافت کے خلاف روس کا "سب سے بڑا جرم" قرار دیا ہے۔ دوسری طرف، روس نے ہمیشہ کی طرح اس تاریخی مقام پر براہِ راست حملے کی سختی سے تردید کی ہے۔ روسی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اور گرجا گھر پر گرنے والا میزائل دراصل یوکرین کا اپنا امریکی ساختہ 'پیٹریاٹ' ڈیفنس میزائل تھا جو ہدف چوکنے کے بعد اپنی ہی عمارت پر جا گرا، تاہم روس نے اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

اس حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روس نے ایک ہی رات میں 70 میزائل اور 611 ڈرونز داغے۔ اس بارود کے برسنے سے کیو کے کئی رہائشی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے اور 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد شہری اندھیرے میں ڈوب گئے۔ ادھر یوکرین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے روس کے شہر 'تولا' پر ڈرون حملہ کیا جس میں ایک سال کے بچے سمیت 3 روسی شہری ہلاک ہوئے۔

تبصرہ و تجزیہ: جی 7 کانفرنس اور ٹرمپ فیکٹر

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس میں دنیا کے امیر ترین ممالک کی تنظیم "G7" کا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے، جہاں یوکرین جنگ ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔ صدر زیلینسکی اس حملے کو بنیاد بنا کر عالمی برادری سے مزید اینٹی بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی نظام مانگ رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی ورثے پر حملہ قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیلینسکی نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اس جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں پر بات کی ہے، لیکن زمین پر روسی صدر پوتین کے ارادے اب بھی انتہائی جارحانہ دکھائی دیتے ہیں۔

کیتھیڈرل کا سابقہ ریکارڈ اور تاریخی پسِ منظر (Evergreen Context):

ڈورمیشن کیتھیڈرل کی تباہی صرف ایک عمارت کا نقصان نہیں ہے، اس کی ہسٹری جاننا ضروری ہے:

  • یونیسکو کا عالمی ورثہ: یہ گرجا گھر "کیو-پیچرسک لاورا" خانقاہی کمپلیکس کا حصہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو (UNESCO) نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔
  • دوسری جنگِ عظیم کا زخم: یہ پہلی بار نہیں ہوا، دوسری جنگِ عظیم کے دوران بھی یہ تاریخی گرجا گھر تقریباً پورا تباہ ہو گیا تھا اور صرف اس کا ایک ٹاور بچا تھا، جسے بعد میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
  • حالیہ جنگ میں نقصانات: 2022 میں روس کے بڑے حملے کے آغاز کے بعد سے یہ کمپلیکس کئی بار بارود کی زد میں آ چکا ہے، اس سے پہلے اسی سال جنوری میں بھی اس کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔

اس تاریخی عمارت سے اٹھتا ہوا دھواں اس بات کی گواہی ہے کہ یوکرین کی جنگ اب صرف زمین کے ٹکڑے کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک تہذیبی اور ثقافتی تصادم کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں امن کے تمام دعوے بارود کی بو میں اڑ چکے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Kyiv Ablaze: Russian Air Strikes Kill Nine and Severe Damage Historic 11th-Century Cathedral


KYIV: A massive wave of Russian missile and drone attacks struck Ukraine, killing at least nine people and leaving over 140,000 residents in Kyiv without electricity. Among the dead are five rescue workers in Kharkiv. The attacks also caused severe damage to the historic 11th-century Dormition Cathedral, a designated UNESCO World Heritage Site within the Kyiv-Pechersk Lavra complex.

Blame Game Ahead of G7 Summit

Ukrainian President Volodymyr Zelensky condemned the attack as a "crime against Christian culture," while Russia denied direct responsibility, claiming a malfunctioning Ukrainian Patriot missile caused the damage. The escalation comes just ahead of the G7 summit in France, with Zelensky urging world leaders for decisive action and immediate anti-ballistic missile support.

Comments