پابندی کے باوجود بچوں کی سائن ان ٹرکس اور 5 بڑے پلیٹ فارمز کے خلاف انکوائری
یاد رہے کہ آسٹریلیا میں 10 دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے 10 بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی عائد ہے، لیکن یہ بات بڑے پیمانے پر تسلیم کی گئی ہے کہ بچے اب بھی مختلف حربوں اور ٹرکس کے ذریعے ان ایپس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ اسی نان کمپلائنس (قانون شکنی) پر اب دنیا کے 5 بڑے پاپولر پلیٹ فارمز: فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے خلاف باقاعدہ ہائی لیول انکوائری کھول دی گئی ہے۔ ای سیفٹی کمیشن کی اپنی حالیہ رپورٹ کے مطابق، جن 10 میں سے 7 بچوں کے پاس پابندی سے پہلے سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود تھے، وہ اب بھی کسی نہ کسی طرح ان ایپس کو استعمال کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ "بگ ٹیک کمپنیاں قانون پر عملدرآمد کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی ہیں، اب بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ بچے موجود ہیں، اس لیے ہم ان پر جرمانے دگنے کر رہے ہیں۔" آسٹریلیا کی وزیر مواصلات انیکا ویلز نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیک کمپنیاں اپنی پرانی چالیں چل رہی ہیں اور بچنے کے لیے صرف کاغذی کارروائی یا کم سے کم کام کر رہی ہیں، جس سے وہ بالکل مطمئن نہیں ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: ڈالرز کی ہوس بمقابلہ بچوں کا ذہنی مستقبل
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسی کمپنیاں کبھی بھی خود سے بچوں کو اپنے پلیٹ فارم سے دور نہیں کریں گی، کیونکہ ان کا پورا بزنس ماڈل ہی صارفین کی تعداد اور اسکرین ٹائم پر چلتا ہے۔ جب تک آسٹریلیا کی طرح ریاستیں ان پر اربوں روپے کے بھاری جرمانے عائد نہیں کریں گی اور ان کے مالکان کو عدالتوں میں نہیں گھسیٹیں گی، تب تک یہ کمپنیاں صرف دکھاوے کے فلٹرز لگا کر معصوم بچوں کے ذہنی مستقبل سے کھیلتی رہیں گی۔ آسٹریلیا کا یہ اقدام دنیا بھر کے لیے ایک بہترین ماڈل بن رہا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کا تحفظ اب قومی سلامتی جتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔
عالمی سطح پر سوشل میڈیا پابندیوں کا پسِ منظر:
آسٹریلیا کے اس جرات مندانہ اقدام کے بعد دنیا بھر کے دیگر بڑے ممالک میں بھی بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے:
- برطانیہ کا بڑا اعلان (جون 2026): برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے بھی اعلان کیا ہے کہ برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر ایسی ہی مکمل پابندی عائد کی جائے گی، جس کا اطلاق بہار 2027 تک ہوگا۔
- نائٹ کرفیو اور انفینٹ اسکرولنگ پر پابندی: برطانوی حکومت بچوں کو آن لائن دلدل سے نکالنے کے لیے رات کے وقت سوشل میڈیا کے استعمال پر کرفیو لگانے اور بغیر رکے چلنے والی اسکرولنگ (Infinite Scrolling) کو بلاک کرنے کے قوانین پر بھی غور کر رہی ہے۔
- یورپی یونین کی کڑی مانیٹرنگ: یورپی ممالک میں بھی بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور الگو تھم کے ذریعے پھیلنے والے ذہنی دباؤ کو روکنے کے لیے 'ڈیجیٹل سروسز ایکٹ' کے تحت بڑی کمپنیوں پر اربوں ڈالرز کے جرمانے پہلے ہی عائد کیے جا چکے ہیں۔
بگ ٹیک اور حکومتوں کے درمیان یہ ڈیجیٹل جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 99 ملین ڈالر کا یہ نیا خوفناک جرمانہ ان کمپنیوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے یا وہ قانون سے بچنے کا کوئی نیا راستہ نکال لیں گی۔

Comments
Post a Comment