فراڈ کیسے ہوتا ہے؟ ڈیٹا "پوائزننگ" کا خطرناک کھیل
رپورٹ کے مطابق، جب کوئی صارف چیٹ جی پی ٹی سے کسی مشہور برانڈ کی مصنوعات یا قیمتوں کے بارے میں پوچھتا ہے، تو یہ اے آئی اسسٹنٹ جواب کے ساتھ کچھ لنکس (Sources) بھی فراہم کرتا ہے۔ صارفین ان لنکس کو اصلی سمجھ کر کلک کرتے ہیں اور وہاں سے خریداری کر لیتے ہیں، لیکن اصل میں وہ ویب سائٹس برانڈز کی ہوبہو نقل (Cloned) ہوتی ہیں۔ رقم منتقل ہوتے ہی ہیکرز بینک کی تفصیلات غائب کر دیتے ہیں اور آرڈر کبھی موصول نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکیمرز نے لارج لینگویج ماڈل (LLM) کو "پوائزن" (زہر آلود) کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ پر اتنی بڑی تعداد میں جعلی ویب سائٹس بنائی ہیں کہ اے آئی ٹولز نے سیکھنے کے عمل کے دوران ان جعلی لنکس کو بھی درست معلومات سمجھ کر اپنے انڈیکس میں شامل کر لیا۔ اس کا زیادہ شکار برطانیہ کا مشہور برانڈ "رومسلے اینڈ بروملے" اور ہوم فرنشنگ برانڈ "ڈونیلم" بنے ہیں۔
برانڈز کا دیوالیہ پن اور اسکیمرز کا فائدہ
نیشنل ٹریڈنگ اسٹینڈرڈز کے اسکیم ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ لوئیس بیکسٹر کا کہنا ہے کہ صارفین صرف اس لیے کسی ویب سائٹ کو اصلی نہ سمجھیں کہ اسے اے آئی نے تجویز کیا ہے۔ اس اسکیم کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- برانڈ کا خاتمہ: رومسلے اینڈ بروملے نامی برانڈ جنوری 2026 میں دیوالیہ ہونے کے بعد "نیکسٹ" (Next) برانڈ میں ضم ہو گیا تھا اور اس کی کوئی آفیشل ویب سائٹ نہیں رہی، ہیکرز اسی چیز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
- جعلی لنکس کی بھرمار: اسکیمرز نے برانڈ کے نام سے ملتے جلتے ڈومینز جیسے russellandbromleylondon اور russellbromleyonlineuk بنا رکھے ہیں۔
- 80 فیصد تک ڈسکاؤنٹ: ان جعلی ویب سائٹس پر صارفین کو راغب کرنے کے لیے 80% تک کا فرضی ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے چیٹ جی پی ٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے سرچ انڈیکس سے ایسی تمام مشکوک ویب سائٹس کو ہٹا دیا ہے، تاہم صارفین کو شاپنگ کے دوران براہِ راست آفیشل ویب سائٹس کا استعمال کرنا چاہیے۔

Comments
Post a Comment