![]() |
| Thailand’s King Maha Vajiralongkorn with Princess Bajrakitiyabha Mahidol on the left and Queen Suthida Photograph: Jewel Samad/AFP/Getty Images |
دسمبر 2022 سے کوما اور شدید طبی پیچیدگیاں
شہزادی باجرکیتیابھا، جنہیں تھائی لینڈ میں محبت سے "شہزادی بھا" کہا جاتا تھا، دسمبر 2022 میں اس وقت شدید بیمار ہوئیں جب وہ اپنے کتوں کو ٹریننگ دے رہی تھیں اور انہیں دل کا دورہ پڑا۔ اس کے بعد سے وہ ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھیں۔ حالیہ مہینوں میں ان کے متعدد اعضاء میں انفیکشن ہوا اور ڈاکٹرز ان کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو نارمل کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
شہزادی باجرکیتیابھا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں، انہوں نے امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ وہ آسٹریا میں تھائی لینڈ کی سفیر، اٹارنی جنرل آفس میں اعلیٰ عہدے دار اور اقوامِ متحدہ کے ڈرگز اینڈ کرائم آفس میں خیرسگالی کی سفیر بھی رہیں۔ انہوں نے تھائی لینڈ میں خواتین قیدیوں کے حقوق کے لیے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔
تخت کا جانشین کون ہوگا؟ نیا دستوری بحران
شہزادی کے انتقال کے بعد اب تھائی لینڈ کے شاہی خاندان میں ولی عہد یا جانشینی کا ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
- مضبوط امیدوار کا خاتمہ: ماہرین کے مطابق شہزادی باجرکیتیابھا کو تخت کی سب سے موزوں ترین وارث سمجھا جاتا تھا، اگرچہ سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں ہوا تھا۔
- سخت قوانین: تھائی لینڈ میں شاہی خاندان پر عوامی بحث یا تنقید پر سخت ترین قانون (Lese Majesty) نافذ ہے، جس کے تحت ایک جرم پر 15 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
- ملکہ کی تاریخ: تھائی لینڈ کی تاریخ میں اب تک کبھی کسی خاتون نے بطور حکمران (Queen) حکومت نہیں کی، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔
تھائی لینڈ کے بادشاہ نے چار شادیاں کی ہیں اور ان کے 7 بچے ہیں، تاہم شہزادی کے انتقال کے بعد اب جانشینی کا فیصلہ شاہی محل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

Comments
Post a Comment