پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کایا کالس (Kaja Kallas) نے اسلام آباد میں ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون، ماحولیاتی تبدیلیوں اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پاک یورپی یونین تعلقات میں مضبوطی کا عزم
پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ اسحاق ڈار نے جی ایس پی پلس (GSP Plus) اسٹیٹس کے تسلسل پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا، جس نے پاکستان کی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل کے شعبے کو یورپی منڈیوں تک رسائی دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول انتہائی سازگار ہے اور یورپی کمپنیوں کو پاکستان کے گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔
کایا کالس کا علاقائی استحکام اور ماحولیات پر گفتگو
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
- ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ: کایا کالس نے واضح کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں بہت کم حصے دار ہونے کے باوجود ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ یورپی یونین اس حوالے سے پاکستان کی تکنیکی اور مالی معاونت جاری رکھے گی۔
- افغانستان کی صورتحال: دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور وہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
- انسانی حقوق اور اصلاحات: پریس کانفرنس میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جاری اصلاحاتی عمل پر بھی تعاملی گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کو تیز کیا جائے گا تاکہ باہمی مفادات پر مبنی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

Comments
Post a Comment