خلیج فارس میں جاری کشیدگی اچانک ایک ہولناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی جانب سے بدھ کے روز کویت اور بحرین پر بڑے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا مین ٹرمینل شدید متاثر ہوا ہے اور پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں امریکی افواج کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر اور قشم جزیرے پر حملوں کا منہ توڑ جواب ہے۔
کویت ایئرپورٹ پر تباہی اور بحرین میں ہائی الرٹ
کویت کے محکمہ دفاع کے مطابق، ایرانی ڈرونز نے ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل (T1) کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا، ایک شہری ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد کویت نے ہنگامی پلان نافذ کرتے ہوئے تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔
دوسری جانب، بحرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی دفاعی فورسز نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے 3 ایرانی میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ایران نے کویت اور بحرین پر براہِ راست الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زمین اور فوجی اڈے ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی، اس لیے وہ اس تباہی کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ اور سفارتی ڈیڈ لاک
اس شدید فوجی ٹکراؤ اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد کے اچانک اضافے کے باوجود ایک حیران کن سفارتی موڑ سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہو گیا ہے اور ایران کے سپریم لیڈر (آیت اللہ) خود پسِ پردہ مذاکرات میں شامل ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خلیج کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایرانی آیت اللہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
تاہم، ایرانی حکام نے امریکی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل میں امریکہ کو کسی صورت بالادستی قائم نہیں کرنے دیں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر مجتبیٰ نیک زاد نے کہا کہ وہ امریکی وعدوں پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ امریکہ نے حال ہی میں مناب کے اسکول پر حملہ کر کے 170 سے زائد بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا ہے۔
اس وقت خلیج میں جنگ بندی کا معاہدہ شدید خطرے میں پڑ چکا ہے۔ چین نے دونوں ممالک سے فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع نہ کرنے اور سیاسی حل نکالنے کی اپیل کی ہے، جبکہ قطر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ہنگامی رابطہ کر کے کویت اور بحرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Gulf Tensions Flare: Iranian Drone Attack Hits Kuwait Airport, Bahrain Intercepts Missiles
A severe military escalation has shaken the Gulf region after Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) launched targeted missile and drone strikes against civilian facilities in Kuwait and Bahrain. The attacks, which Tehran claims were in retaliation to US strikes on an Iranian oil tanker and a communications tower on Qeshm Island, have caused significant regional disruption and forced Kuwait International Airport to suspend operations.
Kuwait Airport Damaged, Casualties Reported
According to Kuwait’s Defense Ministry, hostile drones struck Terminal 1 (T1) of Kuwait International Airport, killing one person and causing widespread infrastructure damage. Iran held Kuwait and Bahrain directly responsible for aiding American aggression by allowing foreign forces to utilize their territorial airspaces and bases. Meanwhile, Bahrain’s military successfully intercepted three ballistic missiles targeting civilian infrastructures.
Trump Claims Progress in Nuclear Dialogues Despite Escalation
Amid rising crude oil prices, US President Donald Trump claimed on Wednesday that Iran has agreed not to acquire a nuclear weapon and noted that Iran’s Supreme Leader is actively approving diplomatic backchannels. However, senior Iranian officials, including Mohsen Rezaee and Parliament Deputy Speaker Mojtaba Nikzad, warned that Tehran will not allow Washington to overreach in negotiations, citing deep mistrust over previous fatal US military operations.
Comments
Post a Comment