وزیراعظم کیر اسٹارمر کا ایلون مسک پر ملک میں نفرت اور تفریق پھیلانے کا سنگین الزام

Split frame showing British Prime Minister Keir Starmer speaking and tech billionaire Elon Musk

لندن: برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (X) کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ برطانیہ میں نفرت اور تفریق کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تنازع برطانوی طالب علم ہنری نوواک کے قتل کیس اور اس کے قاتل کو سزا ملنے کے بعد ایلون مسک کی جانب سے کیے جانے والے پے در پے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکومت نے ایلون مسک کی ان سرگرمیوں کو ملکی سیاست میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔

ہنری نوواک قتل کیس اور ایلون مسک کی پوسٹس کا ریکارڈ

فنانشل ٹائمز (FT) کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران برطانوی سیاست اور ہنری نوواک قتل کیس سے متعلق 110 سے زائد پوسٹس، ری ٹویٹس اور جوابات دیئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ صرف برطانوی سیاست پر مبنی تھا، جو کہ ان کی اپنی خلائی کمپنی 'اسپیس ایکس' (SpaceX) کے آنے والے اہم ترین آئی پی او (IPO) سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔

ایلون مسک نے اپنی پوسٹس میں اس نظریے کی کھل کر حمایت کی ہے کہ طالب علم ہنری نوواک پولیس کی جانب سے 'اینٹی وائٹ نسل پرستی' (Anti-White Racism) کا شکار ہوا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم نے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عوام انتہائی صابر اور روادار ہیں، اور ہنری کے اہل خانہ کی طرح اس سانحے پر پرامن ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جبکہ مسک باہر بیٹھ کر ملک کو تقسیم کرنے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

سیاسی اثر و رسوخ اور 'گروک' (Grok) کا نیا تنازع

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک اب برطانیہ کی انتہائی دائیں بازو کی تارکینِ وطن مخالف جماعت 'ریسRestore برٹین پارٹی' کی تشہیر کر رہے ہیں، جس نے برطانوی سیاست دانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ برطانیہ میں ایک اہم ضمنی الیکشن ہونے والا ہے جو ملکی قیادت میں تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

  • خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کو نشانہ بنانا: یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ جیس اساتو نے ایلون مسک کی اے آئی کمپنی 'xAI' کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔
  • جعلی تصاویر کا معاملہ: الزام لگایا گیا ہے کہ مسک کے اے آئی ٹول 'گروک' (Grok) کو برطانوی خاتون رکنِ پارلیمنٹ کی جعلی اور نازیبا تصاویر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر برطانیہ میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
  • پرانا تنازع: ایلون مسک گزشتہ سال کے آغاز سے ہی کیر اسٹارمر پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور انہوں نے برطانیہ کے 'گرومنگ گینگز اسکینڈل' کو اچھالنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم اب وزیراعظم نے خود سامنے آکر انہیں کرارا جواب دیا ہے۔

برطانوی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے امیر ترین شخص کی جانب سے ملکی اندرونی معاملات اور عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور اس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے قوانین کو سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

PM Keir Starmer Slams Elon Musk for 'Whipping Up Division' in UK Politics


LONDON: British Prime Minister Keir Starmer has launched a fierce critique against billionaire Elon Musk, accusing him of intentionally trying to "whip up division" within the United Kingdom. The escalation follows the conclusion of the trial regarding the murder of student Henry Nowak, a case that Musk has heavily commented on through his platform X.

Massive Social Media Intervention Analyzed by FT

According to data published by the Financial Times, Musk has engaged in over 110 posts, retweets, and replies focused on UK politics within a single week. This targeted activity accounted for over a third of his entire digital footprint, surprisingly tripling the attention given to his aerospace venture SpaceX, which is currently heading toward a highly anticipated stock market IPO on June 12.

Grok AI Legal Actions and Far-Right Endorsements

The political friction peaked as Labour MP Jess Asato initiated legal actions against Musk's xAI company after its AI tool, Grok, was utilized to generate explicit fake photos of her. Concurrently, government analysts expressed deep worries over Musk promoting extreme anti-migrant groups, like Rupert Lowe’s Restore Britain party, ahead of crucial upcoming byelections.

Comments