انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غزہ کے معروف کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کی اسرائیلی حراست سے فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر نے عالمی برادری اور بااثر ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اسرائیلی حکام کے مظالم پر انہیں جوابدہ ٹھہرانے والے طاقتور لوگ بار بار ناکام کیوں ہو رہے ہیں؟ تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حسام کو اس وقت قید کے بجائے اپنے پیاروں کے ساتھ اور غزہ کے دکھی لوگوں کے علاج کے لیے اسپتال میں ہونا چاہیے تھا۔
ڈاکٹر حسام کی گرفتاری اور قیدِ تنہائی کا دردناک پس منظر
ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کی گرفتاری کا پس منظر انتہائی دردناک ہے۔ وہ شمالی غزہ کے واحد فعال کمال عدوان اسپتال میں جنگ کے بدترین حالات کے باوجود زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے دن رات ڈیوٹی پر موجود تھے۔ اسرائیلی افواج نے جب کمال عدوان اسپتال کا وحشیانہ محاصرہ کیا اور اس پر بمباری کی، تو اسی حملے میں ڈاکٹر حسام کے نوجوان بیٹے بھی شہید ہو گئے تھے۔ اپنے جوان بیٹے کی شہادت کے باوجود ڈاکٹر حسام نے اسپتال نہیں چھوڑا اور اپنے آنسو پونچھ کر دوبارہ فلسطینیوں کے علاج میں مصروف ہو گئے۔
بعد ازاں، اسرائیلی فوج نے اسپتال پر دھاوا بول کر میڈیکل اسٹاف کو یرغمال بنایا اور ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کو باقاعدہ حراست میں لے لیا۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، قابض اسرائیلی حکام نے تمام تر انسانی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ڈاکٹر حسام کو بدترین حالات میں قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) میں ڈال رکھا ہے، جہاں انہیں بیرونی دنیا اور طبی عملے سے مکمل طور پر کاٹ دیا گیا ہے۔
عالمی برادری سے اہم مطالبات
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس گرفتاری کو جنگی جرائم کا تسلسل قرار دیتے ہوئے درج ذیل مطالبات سامنے رکھے ہیں:
- فوری غیر مشروط رہائی: ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کو فوری رہا کر کے ان کے خاندان اور اسپتال واپس بھیجا جائے۔
- میڈیکل اسٹاف کا تحفظ: بین الاقوامی قوانین کے تحت غزہ میں موجود ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانا بند کیا جائے۔
- عالمی طاقتوں کا محاسبہ: اسرائیل کو عالمی قوانین کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے بڑی طاقتیں اپنا منافقانہ رویہ ترک کریں۔
ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کی قید نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ غزہ میں اب مسیحا بھی محفوظ نہیں ہیں اور عالمی ضمیر اس ظلم پر مکمل خاموش ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Amnesty International Demands Immediate Release of Gaza Doctor Hussam Abu Safiya
GAZA: Amnesty International has strongly demanded the immediate and unconditional release of Dr. Hussam Abu Safiya, the Director of Kamal Adwan Hospital in northern Gaza, who is currently being held in solitary confinement by Israeli forces. The rights organization criticized global powers for repeatedly failing to hold Israeli authorities accountable for their ongoing atrocities against medical personnel.
The Background of Dr. Hussam's Arrest
Dr. Hussam Abu Safiya became a symbol of resilience when he refused to abandon his hospital despite intense Israeli sieges and bombardment. Tragically, his own son was killed during an Israeli strike on Kamal Adwan Hospital. Despite his profound grief, Dr. Hussam continued treating wounded Palestinians until Israeli forces stormed the facility and detained him, later placing him in strict isolation.
Call for Global Accountability
Amnesty International emphasized that Dr. Abu Safiya belongs with his loved ones and patients in Gaza, urging the international community to take concrete actions to protect healthcare workers in conflict zones.
Comments
Post a Comment