یورپی یونین اور برطانیہ کی آٹو موبائل انڈسٹری نے یورپی کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ بریکسٹ تجارتی معاہدے میں ترمیم کرے اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی درآمد پر مجوزہ ٹیرف (ٹیکسوں) کو دوسری بار بھی معطل کرے۔ کار ساز اداروں نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے کہ وہ یکم جنوری 2027 تک ٹیکس فری فروخت کے لیے طے شدہ سخت شرائط کو پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، جس سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہو سکتا ہے۔
مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی
بریکسٹ معاہدے کے تحت یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ یکم جنوری 2027 تک کسی بھی کار کی کل مالیت کا 55 فیصد حصہ یورپ یا برطانیہ میں تیار کردہ ہونا چاہیے، جبکہ بیٹری پیک کا 70 فیصد اور بیٹری سیل کا 65 فیصد مقامی طور پر بننا ضروری ہے۔ تاہم، کورونا وبا، روس یوکرین جنگ کے باعث سیمی کنڈکٹرز کی قلت اور خام مال پر چین کے غلبے کی وجہ سے یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔
یورپی کار مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ACEA) کے مطابق، پہلے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ 2027 تک 60 فیصد بیٹریاں یورپ میں بننے لگیں گی، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ یکم جنوری 2027 تک یورپ میں صرف 20 فیصد سے بھی کم بیٹریاں تیار ہو پائیں گی۔ برطانیہ میں یہ شرح اگرچہ کچھ بہتر ہے، لیکن وہ بھی مقررہ ہدف سے کافی پیچھے ہے۔ اس کے علاوہ یورپ میں بیٹری بنانے کی لاگت چین کے مقابلے میں اب بھی 30 فیصد زیادہ ہے۔
چینی مارکیٹ کا دباؤ اور یورپی رہنماؤں کا اہم اجلاس
برطانیہ کی سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (SMMT) کے چیف ایگزیکٹو مائیک ہاوس کا کہنا ہے کہ سپلائی چین ابھی ان سخت شرائط کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے دونوں اطراف پر زور دیا کہ وہ کوئی ایسا عملی حل نکالیں جس سے صارفین پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ نہ پڑے۔ آٹو انڈسٹری کو اس وقت یہ خوف بھی لاحق ہے کہ چین میں ضرورت سے زیادہ پیداوار اور سازگار شرحِ مبادلہ کی وجہ سے یورپی انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
- بھاری لاگت: یورپ میں لیتھیم کی مائننگ سے لے کر بیٹری تیار کرنے تک کی سپلائی چین کھڑی کرنے پر تقریباً 75 کروڑ ڈالر کی لاگت آتی ہے جو کہ ایک طویل عمل ہے۔
- یورپی کمیشن کا موقف: یورپی کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور بریکسٹ کے تحت انڈسٹری کی تیاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
- آئندہ کا لائحہ عمل: یورپی یونین کے رہنماؤں کا اہم اجلاس 18 جون کو متوقع ہے، جس میں کار انڈسٹری کے تحفظ اور چین سے ملنے والے تجارتی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اگر یورپی یونین نے کار انڈسٹری کے مطالبے پر ٹیکسوں کے نفاذ میں تاخیر نہ کی، تو یورپی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کا عمل شدید سست ہونے کا خدشہ ہے۔

Comments
Post a Comment