سی ڈی اے کا متبادل زمین کی الاٹمنٹ پر بڑا مؤقف
اس اہم معاملے پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کا باقاعدہ اور سخت مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ ترجمان سی ڈی اے کے مطابق، فیض آباد مری روڈ پر قائم ٹریفک پولیس آفس کی 4.20 ایکڑ اراضی کی اجازت سال 2008 میں ہی واپس لی جا چکی ہے۔ بعد ازاں، سال 2016 میں ٹریفک پولیس کو سیکٹر H-11/2 میں متبادل 4.20 ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی تھی، جس کی بنیادی شرط یہ تھی کہ مری روڈ کی موجودہ اراضی کو فوری طور پر خالی کیا جائے گا، تاہم متبادل زمین ملنے کے باوجود مری روڈ کا دفتر تاحال وہیں برقرار ہے۔
سی ڈی اے کا مزید کہنا ہے کہ مری روڈ کی اس قیمتی اراضی کو برقرار رکھنے کے لیے 'لینڈ یوز' (Land Use) کی تبدیلی اور وفاقی کابینہ ڈویژن سے باقاعدہ منظوری لازمی ہے۔ بغیر کسی قانونی منظوری کے اس سرکاری اراضی کے استعمال کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ دوسری جانب، اس پورے معاملے پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے اب تک کوئی واضح مؤقف یا دفاع سامنے نہیں آیا ہے۔
وفاقی کابینہ میں معاملہ زیرِ غور
سرکاری اراضی کے اس غیر قانونی استعمال کے معاملے کی سنگینی اب حکومتی ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کیس سے جڑے اہم قانونی نکات درج ذیل ہیں:
- دوبارہ درخواست: سال 2020 میں آئی سی ٹی (ICT) پولیس کی جانب سے فیض آباد کے قریب ایک اور متبادل اراضی کی دوبارہ درخواست بھی سامنے آئی تھی۔
- کابینہ کی مداخلت: اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اس جگہ کا یہ متنازعہ معاملہ اب باقاعدہ طور پر وفاقی کابینہ کے ایجنڈے پر ہے اور زیرِ غور ہے۔
- قانون کی خلاف ورزی: قانونی ماہرین کے مطابق، کابینہ ڈویژن کی منظوری کے بغیر اتنی بڑی اراضی پر بیوروکریسی یا پولیس کا قبضہ برقرار رہنا گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔
اب یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ وفاقی کابینہ اور سی ڈی اے کی اس سخت رپورٹ کے بعد کیا اسلام آباد ٹریفک پولیس اپنے ہی ہیڈ کوارٹر کو متبادل جگہ پر منتقل کرتی ہے یا یہ غیر قانونی قبضہ یوں ہی برقرار رہتا ہے۔

Comments
Post a Comment