بابر اور شاہین بھی نشانے پر! پی سی بی کا اسٹار کرکٹرز کے خلاف بڑا ایکشن

PCB officials and star players Babar Azam and Shaheen Afridi regarding the new domestic cricket policy
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ملک کے نامور اور اسٹار کرکٹرز کے خلاف ایک انتہائی سخت اور تاریخی فیصلہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے، جس کے تحت ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچز نہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ "ہولڈ" (معطل) کر دیے جائیں گے۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے واضح کر دیا ہے کہ اب نام یا سنیارٹی پر کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔ جب تک کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی شرط پوری نہیں کریں گے، تب تک انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔

"سسٹم سب سے اوپر ہے"؛ بابر اور شاہین پر بھی پابندی کا خطرہ

اس نئی اور کڑی پالیسی کی سب سے بڑی زد میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی بھی آ رہے ہیں، کیونکہ دونوں کھلاڑی فی الحال کم از کم فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی یہ قوانین موجود تھے لیکن پلیئرز ان کی دھجیاں اڑاتے تھے، مگر اب ایسا نہیں چلے گا۔ جو کھلاڑی شرط پوری کرے گا یا میڈیکل کلیئرنس لائے گا، صرف اسی کا کنٹریکٹ بحال ہوگا اور بقایاجات ملیں گے۔

نئے فارمولے کے تحت ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں (کیٹیگری A) کو سال میں کم از کم 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلنا ہوں گے، جس میں انہیں انٹرنیشنل میچ فیس (15 لاکھ) کی آدھی رقم یعنی ساڑھے 7 لاکھ روپے ملیں گے، لیکن انہیں غیر ملکی لیگز کھیلنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری طرف، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو 2 سے 4 فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی شرط کے ساتھ سال میں صرف 1 سے 2 لیگز کھیلنے کی اجازت ملے گی۔ صرف ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ (کیٹیگری C) کو زیادہ سے زیادہ لیگز کھیلنے کی چھوٹ ہوگی، لیکن ان کی ریٹینر فیس سب سے کم رکھی جائے گی۔

تبصرہ و تجزیہ: لیگز کا پیسہ یا ملکی کرکٹ کا وقار؟

عاقب جاوید کا یہ جارحانہ اسپورٹس ماڈل بظاہر پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو بچانے کے لیے بہترین دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں یہ ٹرینڈ بن چکا تھا کہ بڑے کھلاڑی ملکی فرسٹ کلاس کرکٹ کو وقت دینے کے بجائے دنیا بھر کی کمرشل لیگز (جیسے ILT20، بگ بیش یا پی ایس ایل) میں ڈالرز کمانے کو ترجیح دیتے تھے، جس سے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا گراف بری طرح گر گیا۔ ڈیٹا اور امپیکٹ کی بنیاد پر کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی سی بی بڑے ناموں کے دباؤ کے سامنے اس فیصلے پر قائم رہ پائے گا؟

پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ اور تنازعات کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

  • ڈومیسٹک کرکٹ کا زوال: عمران خان کے دورِ حکومت میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند کر کے صرف 6 ریجنل ٹیموں کا نظام لایا گیا، جسے بعد میں زکا اشرف اور محسن نقوی کے ادوار میں دوبارہ تبدیل کیا گیا۔ اس بار بار کی تبدیلی نے سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا۔
  • بڑے کھلاڑیوں کا بائیکاٹ: ماضی میں بھی محمد عامر، عماد وسیم اور حارث رؤف جیسے کھلاڑیوں پر فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھیلنے اور صرف ٹی ٹوئنٹی لیگز کو ترجیح دینے پر سینٹرل کنٹریکٹ کی تنزلی یا این او سی (NOC) نہ دینے جیسی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔
  • فٹنس ٹیسٹ کا معیار: ماضی میں مکی آرتھر اور مصباح الحق کے ادوار میں فٹنس کے لیے "یو یو ٹیسٹ" (Yo-Yo Test) لازمی قرار دیا گیا تھا، جس پر کئی سینیئر کھلاڑیوں نے احتجاج کیا تھا اور بعد میں اس معیار کو نرم کر دیا گیا تھا۔

پی سی بی کی یہ نئی سرجری پاکستان کرکٹ کو دوبارہ درست ٹریک پر لاتی ہے یا بڑے کھلاڑیوں اور بورڈ کے مابین ایک نئی بغاوت کو جنم دیتی ہے، اس کا فیصلہ آنے والا سیزن کر دے گا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ اب سستی شہرت اور نام پر معاوضے ملنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔


⬇️ Click to Read this Sports Story in English

PCB Strict Measures: Central Contracts of Top Cricketers Likely to be Held Over Domestic Absence


LAHORE: The Pakistan Cricket Board (PCB) is set to enforce a rigorous structural policy regarding central contracts. PCB’s Director of High Performance, Aaqib Javed, announced that several marquee players, including Babar Azam and Shaheen Shah Afridi, face having their central contracts withheld if they fail to meet the mandatory participation criteria in domestic first-class matches.

New Category Framework and T20 League Restrictions

Under the revised guidelines, contracts will be strictly performance, data, and impact-driven rather than relying on seniority. Test specialists in Category A must play at least 6 domestic first-class matches and will be barred from playing foreign T20 leagues. Conversely, T20 specialists in Category C will receive a lower retainer fee but maintain the flexibility to participate in global leagues, provided it does not conflict with national duties.

Comments