"سسٹم سب سے اوپر ہے"؛ بابر اور شاہین پر بھی پابندی کا خطرہ
اس نئی اور کڑی پالیسی کی سب سے بڑی زد میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی بھی آ رہے ہیں، کیونکہ دونوں کھلاڑی فی الحال کم از کم فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی یہ قوانین موجود تھے لیکن پلیئرز ان کی دھجیاں اڑاتے تھے، مگر اب ایسا نہیں چلے گا۔ جو کھلاڑی شرط پوری کرے گا یا میڈیکل کلیئرنس لائے گا، صرف اسی کا کنٹریکٹ بحال ہوگا اور بقایاجات ملیں گے۔
نئے فارمولے کے تحت ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں (کیٹیگری A) کو سال میں کم از کم 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلنا ہوں گے، جس میں انہیں انٹرنیشنل میچ فیس (15 لاکھ) کی آدھی رقم یعنی ساڑھے 7 لاکھ روپے ملیں گے، لیکن انہیں غیر ملکی لیگز کھیلنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری طرف، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو 2 سے 4 فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی شرط کے ساتھ سال میں صرف 1 سے 2 لیگز کھیلنے کی اجازت ملے گی۔ صرف ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ (کیٹیگری C) کو زیادہ سے زیادہ لیگز کھیلنے کی چھوٹ ہوگی، لیکن ان کی ریٹینر فیس سب سے کم رکھی جائے گی۔
تبصرہ و تجزیہ: لیگز کا پیسہ یا ملکی کرکٹ کا وقار؟
عاقب جاوید کا یہ جارحانہ اسپورٹس ماڈل بظاہر پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو بچانے کے لیے بہترین دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں یہ ٹرینڈ بن چکا تھا کہ بڑے کھلاڑی ملکی فرسٹ کلاس کرکٹ کو وقت دینے کے بجائے دنیا بھر کی کمرشل لیگز (جیسے ILT20، بگ بیش یا پی ایس ایل) میں ڈالرز کمانے کو ترجیح دیتے تھے، جس سے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا گراف بری طرح گر گیا۔ ڈیٹا اور امپیکٹ کی بنیاد پر کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی سی بی بڑے ناموں کے دباؤ کے سامنے اس فیصلے پر قائم رہ پائے گا؟
پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ اور تنازعات کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
- ڈومیسٹک کرکٹ کا زوال: عمران خان کے دورِ حکومت میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند کر کے صرف 6 ریجنل ٹیموں کا نظام لایا گیا، جسے بعد میں زکا اشرف اور محسن نقوی کے ادوار میں دوبارہ تبدیل کیا گیا۔ اس بار بار کی تبدیلی نے سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا۔
- بڑے کھلاڑیوں کا بائیکاٹ: ماضی میں بھی محمد عامر، عماد وسیم اور حارث رؤف جیسے کھلاڑیوں پر فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھیلنے اور صرف ٹی ٹوئنٹی لیگز کو ترجیح دینے پر سینٹرل کنٹریکٹ کی تنزلی یا این او سی (NOC) نہ دینے جیسی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔
- فٹنس ٹیسٹ کا معیار: ماضی میں مکی آرتھر اور مصباح الحق کے ادوار میں فٹنس کے لیے "یو یو ٹیسٹ" (Yo-Yo Test) لازمی قرار دیا گیا تھا، جس پر کئی سینیئر کھلاڑیوں نے احتجاج کیا تھا اور بعد میں اس معیار کو نرم کر دیا گیا تھا۔
پی سی بی کی یہ نئی سرجری پاکستان کرکٹ کو دوبارہ درست ٹریک پر لاتی ہے یا بڑے کھلاڑیوں اور بورڈ کے مابین ایک نئی بغاوت کو جنم دیتی ہے، اس کا فیصلہ آنے والا سیزن کر دے گا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ اب سستی شہرت اور نام پر معاوضے ملنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

Comments
Post a Comment