"شرحِ سود کم کرو" اور ووٹر آئی ڈی کی شرط: ٹرمپ کا مؤقف
سفید فام گھرانے ہوں یا اقلیتیں، اس وقت امریکہ کے 89 فیصد ووٹرز ہاؤسنگ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید پریشان ہیں۔ جب وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اس بل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ایک بالکل مختلف معاشی مؤقف اپنایا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گھروں کو سستا کرنے کا تعلق کسی بل سے نہیں بلکہ صرف اور صرف "شرحِ سود" (Interest Rate) کو کم کرنے سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرحِ سود کم کرنے سے عوام کو سستے مارگیج لون ملیں گے، حالانکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے مہنگائی (Inflation) مزید بڑھ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ موجودہ مکان مالکان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے جن کے گھروں کی قیمتیں پہلی بار اتنی زیادہ ہوئی ہیں۔
دستخط روکنے کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "سیو امریکہ ایکٹ" (SAVE Act) کا پاس ہونا ایک قومی ایمرجنسی ہے، جس کے تحت امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کا ثبوت اور سخت آئی ڈی کارڈ لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ ریپبلکن اراکینِ پارلیمنٹ کا ماننا ہے کہ ٹرمپ جلد یا بدیر اس بل پر دستخط کر دیں گے، جبکہ بل کی شریک بانی ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو امریکی خاندانوں کے معاشی بوجھ سے شدید لاپرواہی اور بے حسی قرار دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: مڈ ٹرم الیکشن اور ہاؤسنگ کا بھیانک بحران
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم الیکشنز کے باعث دونوں پارٹیاں اس بل کی کامیابی کا سہرہ اپنے سر سجانا چاہتی ہیں۔ امریکہ میں اس وقت گھروں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ سال 2010 میں امریکہ میں اوسط گھر کی قیمت 2 لاکھ 23 ہزار ڈالرز تھی، جو اب بڑھ کر 4 لاکھ 3 ہزار ڈالرز (تقریباً 11 کروڑ روپے سے زائد) ہو چکی ہے۔ ایک امریکی خاندان کو گھر خریدنے کے لیے سالانہ 1 لاکھ 17 ہزار ڈالرز کی آمدنی چاہیے، جبکہ اوسط امریکی خاندان اس سے 30 ہزار ڈالرز کم کما رہا ہے۔ اس بل کے تحت بڑی کارپوریٹ کمپنیوں پر فیملی ہاؤسز خریدنے کی پابندی لگائی جانی تھی تاکہ سپلائی بڑھنے سے قیمتیں کم ہوں، لیکن ٹرمپ نے اس عوامی بل کو اپنے سیاسی مقصد (ووٹر آئی ڈی قانون) کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر لیا ہے۔
امریکہ میں ہاؤسنگ بحران اور مختلف گروپس کے اعداد و شمار:
امریکی سینسس بیورو (Census Data) اور ہاؤسنگ رپورٹس کے مطابق، امریکہ کا یہ بحران مختلف نسلوں اور برادریوں کو شدید متاثر کر رہا ہے:
- گھروں کی شدید قلت: رئیلٹر ڈاٹ کام کے مطابق، پچھلے سال کے اختتام تک امریکہ میں اوسطاً 40 لاکھ (4 ملین) سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی بدترین شارٹیج ریکارڈ کی گئی، جس سے قیمتیں آسمان پر پہنچیں۔
- سفید فام بمقابلہ سیاہ فام ہوم اونرشپ: ڈیٹا کے مطابق، امریکہ میں سفید فام (White) خاندانوں میں گھر کے مالکان کی شرح سب سے زیادہ یعنی تقریباً 74 فیصد ہے، جبکہ سیاہ فام (Black/African American) خاندانوں میں یہ شرح صرف 44 فیصد ہے، جس کی وجہ سے یہ بحران نسلی تفریق کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
- ہسپانوی کمیونٹی کا ریکارڈ: ہسپانوی (Hispanic) خاندانوں میں اپنے گھر کی مالکانہ شرح اس وقت تقریباً 51 فیصد ہے، اور وہ بھی موجودہ مہنگائی اور ہائی انٹرسٹ ریٹ کے باعث نئے گھر خریدنے سے قاصر ہیں۔
- قدرتی آفات اور دیہی علاقے: اس بل میں ایک اہم شق یہ بھی تھی کہ قدرتی آفات (جیسے طوفان اور سیلاب) سے متاثرہ غریب برادریوں کو فوری فنڈز دیے جائیں، جو اب ٹرمپ کے انکار کے بعد کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔
اگر ٹرمپ اگلے 10 دنوں میں اس بل کو باقاعدہ ویٹو (Veto) نہیں کرتے، تو یہ امریکی آئین کے تحت خود بخود قانون بن جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ مڈ ٹرم الیکشن سے قبل کیا کارڈ کھیلتے ہیں۔

Comments
Post a Comment