ٹرمپ کا یوٹرن یا نئی چال؟ آبنائے ہرمز پر ایران کی تعریف، ساتھ ہی بڑی دھمکی

US President Donald Trump speaking at White House alongside a map of the Strait of Hormuz maritime route
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری دہائیوں پرانی کشیدگی میں ایک حیران کن اور ڈرامائی موڑ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے مکمل فعال ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ میں ایران کے کردار کی تعریف کی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اس معاملے میں بہت اچھا کام کر رہا ہے اور وہ جلد ہی بڑے پیمانے پر اپنے جوہری ہتھیاروں کے معائنے پر بھی رضامند ہو جائے گا۔ تاہم، اس تعریف کے فوراً بعد امریکی صدر نے تہران کو اپنے روایتی تیکھے انداز میں سخت ترین وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔

"پہلے تعریف، پھر وارننگ": ٹرمپ کی ڈبل گیم کا پوسٹ مارٹم

صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک ایران بین الاقوامی اور امریکی معاہدوں کا احترام کرتا رہے گا، دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا نہیں ہوگا، لیکن اگر تہران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکہ وہ تمام ضروری اقدامات کرے گا جو وہ مناسب سمجھے گا۔ دوسری طرف، ایران نے بھی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، لیکن ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ شرط عائد کی ہے کہ یہ تعاون صرف ایرانی قوانین اور اعلیٰ قومی اداروں کے فیصلوں کے دائرہ کار کے اندر ہی ممکن ہوگا۔

یہاں بنیادی تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے "پہلے شدید دباؤ ڈالو اور پھر مذاکرات کی میز پر لاؤ" کے فارمولے پر چلتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کی 20 فیصد سے زائد توانائی سپلائی ہوتی ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں کو تباہ کر سکتی ہے، اس لیے وہ ایک طرف ایران کو سفارتی لالچ دے رہے ہیں اور دوسری طرف پابندیوں اور عسکری کارروائی کا ڈراوا برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تہران کا جواب بھی انتہائی نپا تلا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز اور پاک ایران گیس پائپ لائن کا پسِ منظر (Evergreen Context):

مشرقِ وسطیٰ اور اس خطے کی جیو پولیٹکس کو سمجھنے کے لیے آبنائے ہرمز اور پاک ایران تعلقات کا یہ پسِ منظر جاننا بہت ضروری ہے:

  • آبنائے ہرمز کی اہمیت (Strait of Hormuz): یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واحد سمندری راستہ ہے، جہاں سے سعودی عرب، امارات، کویت اور عراق کا تیل گزرتا ہے۔ ماضی میں ایران کئی بار امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے اس گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔
  • پاک ایران گیس پائپ لائن (IP Project): پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات اور توانائی کے منصوبے انتہائی اہم ہیں، لیکن امریکی پابندیوں کے خوف اور واشنگٹن کے دباؤ کے باعث پاکستان اس اہم منصوبے کو مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
  • ٹرمپ کی سابقہ تاریخ (JCPOA 2018): یاد رہے کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے 2018 میں ایران کے ساتھ ہونے والے تاریخی عالمی جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے ایران پر بدترین اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے تھے۔

عالمی سیاسی پنڈتوں کے مطابق، آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا یہ نیا بیان کسی بڑے بیک ڈور سفارتی معاہدے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، لیکن ایران کی طرف سے اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ اونٹ ابھی کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Geopolitical Story in English

Carrot and Stick: Trump Praises Iran Over Strait of Hormuz But Warns of Serious Actions


WASHINGTON: US President Donald Trump has stated that the critical maritime gateway, the Strait of Hormuz, is fully open and functional, surprisingly praising Iran for doing a "very good job" in managing the waterway. Speaking at the White House, Trump claimed that Iran would soon agree to large-scale weapon inspections and long-term nuclear transparency. However, he immediately issued a stern warning, stating that if Tehran fails to comply with international agreements, the US will take all necessary actions.

Tehran Refuses to Back Down Under US Pressure

In response to Trump's statements, Iran's Foreign Ministry spokesperson, Esmaeil Baghaei, confirmed that Tehran would maintain its cooperation with the International Atomic Energy Agency (IAEA). However, Iran firmly asserted that any cooperation would strictly adhere to its domestic laws and the strategic decisions of its high-level national institutions, making it clear that Tehran will not accept unilateral American dictation on its sovereign nuclear program.

Comments