پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیجنڈ فاسٹ بولر وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق اور معروف میزبان و اداکار فخر عالم سمیت متعدد نامور شخصیات نے رواں سال فریضۂ حج کی سعادت حاصل کی ہے۔ اس مقدس سفر کے دوران ان کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس کے بعد بعض صارفین کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی گئی اور ان کے اس سفر کو "حج کے بجائے پکنک" کا نام دیا گیا۔ اب ان تمام اسٹارز نے خاموشی توڑتے ہوئے تنقید کرنے والوں کو کرارا شرعی اور عقلی جواب دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید کیوں ہوئی؟
دورانِ حج وسیم اکرم کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ رمی الجمرات کے دوران اپنے مخصوص پرانے سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے علاوہ ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے۔ دوسری جانب فخر عالم نے بھی سوشل میڈیا پر حج سفر کی متعدد جھلکیاں شیئر کیں، جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی بھی ان کے ساتھ ہنستے مسکراتے نظر آئے۔ ان ہلکے پھلکے لمحات کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کے تیر برسا دیے۔
سٹارز کا تنقید کرنے والوں کو جواب
حالیہ گفتگو میں ان مایہ ناز شخصیات نے ان تمام باتوں کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے عام لوگوں کی غلط فہمیاں دور کیں:
- سر منڈوانے پر اعتراض کا جواب: کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ انہوں نے حج کے بعد سر کیوں نہیں منڈوایا۔ اس پر انہوں نے وضاحت کی کہ سفر پر جانے سے پہلے انہوں نے باقاعدہ علماء کرام سے شرعی رہنمائی حاصل کی تھی۔ اسلام میں دو آپشنز موجود ہیں؛ یا تو مکمل سر منڈوایا جائے (حلق) یا پھر بال چھوٹے کروائے جائیں (قصر)۔ انہوں نے دوسرا شرعی طریقہ اپنایا جو کہ مکمل طور پر جائز ہے۔
- حج پکنک نہیں ہے: انہوں نے کہا کہ حج ایک عظیم اور تھکا دینے والی عبادت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان وہاں چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مگن رہے۔ عبادت کے ساتھ ساتھ دوستوں سے ملنا، گفتگو کرنا، ہنسنا مسکرانا اور خوشی کے لمحات شیئر کرنا بھی اس سفر کا خوبصورت حصہ ہے۔
- نوجوانوں کے لیے رہنمائی: ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ نئی نسل کو حج کی ادائیگی اور وہاں کے ماحول کے بارے میں آسان رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس کا شوق پیدا ہو۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے تنقید کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی پر بھی اعتراض کرنے سے پہلے دینی مسائل اور حقیقت کی مکمل معلومات حاصل کر لینا ضروری ہے۔

Comments
Post a Comment