بین الاقوامی سطح پر بڑا قدم؛ آئرلینڈ نے انتہائی دائیں بازو کے دو کٹر اسرائیلی وزراء پر پابندی لگا دی
آئرلینڈ کی حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف مسلسل نسل کشی پر مبنی بیانات دینے اور غزہ میں امداد کی بندش کی حمایت کرنے پر اسرائیل کے دو انتہائی بااثر اور کٹر دائیں بازو کے وزراء پر اپنے ملک میں داخلے کی مستقل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اہم سفارتی فیصلے کے بعد دونوں اسرائیلی وزراء اب آئرلینڈ کی سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکیں گے۔ بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کو اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے حوالے سے ایک انتہائی بڑا اور جرات مندانہ قدم دیکھا جا رہا ہے۔
وزیرِ قومی سلامتی بن گویر اور وزیرِ خزانہ سموٹریچ نشانے پر
آئرلینڈ کی جانب سے جن اسرائیلی وزراء پر پابندی لگائی گئی ہے، ان میں اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتامار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) اور وزیرِ خزانہ بیزیلیل سموٹریچ (Bezalel Smotrich) شامل ہیں۔ یہ دونوں وزراء فلسطینیوں کے خلاف سخت ترین فوجی کارروائیوں، مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور غزہ میں انسانی امداد کو روکنے کے سب سے بڑے حامی مانے جاتے ہیں۔
آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم نے اس پابندی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان اسرائیلی وزراء کا رویہ اور اقدامات انسانیت سوز ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان وزراء نے نہ صرف غزہ امداد لے جانے والے فلوٹیلا قافلے کے ساتھ انتہائی ناروا اور ظالمانہ سلوک روا رکھا، بلکہ فلسطینی عوام کے خلاف ان کے مسلسل زہریلے بیانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ یہ وزراء فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
نسل کشی کے الزامات اور بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی
اسرائیلی حکومت کے ان دونوں اہم ستونوں کو اس وقت شدید عالمی تنقید اور تنہائی کا سامنا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- نسل کشی کے سنگین الزامات: بن گویر اور سموٹریچ دونوں پر عالمی برادری کی جانب سے معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم پر اکسانے کے سنگین الزامات عائد ہیں۔
- دیگر ممالک کی پابندیاں: آئرلینڈ سے قبل بھی دنیا کے چند دیگر ممالک ان دونوں انتہا پسند وزراء کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ان کے داخلے پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
- سفارتی دباؤ میں اضافہ: یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کے سرکاری عہدیداروں کے خلاف براہِ راست اس طرح کے سخت اقدامات سے اسرائیلی حکومت پر سفارتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
آئرلینڈ کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ غزہ پر جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف اب یورپی ممالک کے اندر بھی شدید غصہ پایا جاتا ہے اور وہ زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment