بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں! کیا مرغی کا گوشت اور انڈے مزید مہنگے ہونے والے ہیں؟

Poultry farm in Pakistan facing high production costs due to new budget taxes
پاکستان میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے پروٹین کا سب سے سستا اور واحد ذریعہ 'مرغی کا گوشت اور انڈے' ہیں، لیکن نئے وفاقی بجٹ 2026-27 نے اس سستے ذریعے کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (PPA) نے حکومت کے نئے بجٹ پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر پولٹری انڈسٹری پر لگائے گئے بھاری ٹیکس واپس نہ لیے گئے، تو ملک میں مرغی کا گوشت اور انڈے غریب کی پلیٹ سے غائب ہو جائیں گے اور ملک میں خوراک کے تحفظ (Food Security) کا ایک نیا بحران کھڑا ہو جائے گا۔

پہلے دن سے ہی ٹیکسوں کی بھرمار: چوزے سے لے کر فیڈ تک مہنگی

ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجٹ سے پہلے بڑے بڑے وعدے کیے تھے، لیکن فنانس بل میں پولٹری سیکٹر کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ایک دن کے چوزے (Day-old Chick) پر 10 روپے فی چوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی برقرار رکھی گئی ہے۔ چونکہ چوزہ پروڈکشن کا پہلا مرحلہ ہے، اس لیے یہاں سے شروع ہونے والی مہنگائی آخر میں عام گاہک کی جیب پر اثر ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے پراسیسڈ چکن (پیکٹ والے گوشت) پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا ہے، جس سے ملک میں صاف اور معیاری گوشت کی انڈسٹری کو فروغ دینے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

مرغی کی پیداواری لاگت میں 70 سے 75 فیصد حصہ اس کی خوراک (Feed) کا ہوتا ہے۔ بجٹ میں مرغی کی فیڈ میں استعمال ہونے والے اہم اجزاء جیسے سویا بین میل، وٹامنز اور امینو ایسڈز پر امپورٹ ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم نہیں کیے گئے۔ جب فیڈ بنانے کا خام مال ہی مہنگا ہوگا، تو فارمرز کے لیے مرغی پالنا ناممکن ہو جائے گا اور فارمز بند ہونے سے مارکیٹ میں سپلائی کم اور قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔

تبصرہ و تجزیہ: زراعت کے بعد سب سے بڑا شعبہ خطرے میں

پاکستان کا پولٹری سیکٹر ملک کا سب سے بڑا اور منظم زرعی شعبہ ہے، جو لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس انڈسٹری میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ تیار چکن پروڈکٹس باہر ایکسپورٹ کر کے ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما سکے۔ لیکن حکومت معاشی ریلیف دینے کے بجائے اس پر ایسے ٹیکس لگا رہی ہے جس سے یہ شعبہ دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر پارلیمنٹ سے اس بل کی منظوری سے قبل ان ٹیکسوں پر نظرِ ثانی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان میں پولٹری بحران کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کا پولٹری سیکٹر شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوا ہے، ماضی کا یہ ریکارڈ اس بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے:

  • سویا بین جہازوں کا بحران (2022-23): کراچی پورٹ پر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GMO) سویا بین کے جہازوں کو کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے فیڈ کی شدید قلت ہو گئی تھی، جس کے باعث ملک میں مرغی کا گوشت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور سینکڑوں فارمز بند ہو گئے تھے۔
  • فیڈ ملز کی ہڑتالیں: ماضی میں بھی سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف فیڈ ملز مالکان نے ہڑتالیں کیں، جس سے چوزوں کی سپلائی متاثر ہوئی اور پولٹری کا کاروبار شدید مندی کا شکار رہا۔
  • پروٹین کا متبادل: پاکستان میں گائے اور بکرے کا گوشت پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ ایسے میں پولٹری پر ٹیکس بڑھانا براہِ راست ملک میں غذائی قلت (Malnutrition) کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

اگر حکومت نے پارلیمنٹ میں فنانس بل کو حتمی شکل دینے سے پہلے پولٹری ایسوسی ایشن کے مطالبات تسلیم نہ کیے، تو آنے والے مہینوں میں عوام کو سستی پروٹین کے لالے پڑ سکتے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

No Fiscal Relief: Poultry Sector Warns of Massive Price Hikes Ahead


ISLAMABAD: The Pakistan Poultry Association (PPA) has expressed deep disappointment over the federal budget 2026-27, revealing that despite government assurances, the poultry industry received no meaningful tax relief. Industry leaders warned that continuing high taxes on feed ingredients and day-old chicks will dangerously inflate production costs and impact national food security.

Burdensome Visual Taxes Countering Agro-Growth

PPA officials highlighted that the retention of a Rs10 federal excise duty on day-old chicks and an 18% sales tax on processed chicken heavily discourages hygienic, value-added food production. Since poultry feed accounts for nearly 75% of overall farming costs, continuous import duties on essential items like soybean meal and vitamins will ultimately hit consumers, making chicken meat and eggs less affordable for the masses.

Comments