امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری! ایران کے معاملے میں واشنگٹن کی تاریخی ناکامیاں

Historical analysis of US foreign policy failures regarding Iran from 1953 to 2026

✍️ تحریر: نصراللہ وڑائچ

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے (MoU) کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے، اور وہ ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی ایران کو سمجھنے میں تاریخی نااہلی۔ ایران ہمیشہ سے امریکی خارجہ پالیسی کی ایک ایسی کمزوری رہا ہے جہاں واشنگٹن نے معلومات کی کمی، تکبر اور غلط اندازوں کی وجہ سے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے لیے سب سے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) پر واپس لوٹ جائیں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نئے سنگین بحران کو حل کریں۔

کفِ افسوس ملتا امریکہ: 1953 سے لے کر 1979 تک کی غلطیاں

سفارت کاری کو پسِ پشت ڈالنے کی امریکہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1953 میں سی آئی اے (CIA) نے برطانیہ کے ساتھ مل کر ایران کے جمہوری وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹ دیا تھا کیونکہ وہ ایران کا تیل قومیانا چاہتے تھے۔ اسی طرح 1970 کے عشرے میں جب ایرانی عوام میں شاہِ ایران کے خلاف لاوا پک رہا تھا، تہران میں موجود امریکی سفارت خانے کے عملے کو فارسی زبان تک نہیں آتی تھی، وہ مقامی حقیقتوں سے بے خبر صرف شاہ کو امریکی ہتھیار بیچنے کے کمیشن میں مصروف تھے۔

جب اکتوبر 1978 میں صدام حسین نے آیت اللہ خمینی کو عراق سے جلاوطن کیا، تو وہ پیرس کے قریب نیوفل لے شاتو چلے گئے۔ وہاں سے ان کے مغربی تعلیم یافتہ مشیروں نے خمینی کے انقلابی بیانات کا ایسا 'انسانی ہمدردی' پر مبنی ترجمہ عالمی میڈیا کو بیچا کہ امریکی انتظامیہ دھوکہ کھا گئی اور یہ سمجھتی رہی کہ ایران میں جمہوریت آئے گی۔ لیکن جب 16 جنوری 1979 کو شاہِ ایران ہمیشہ کے لیے ملک سے بھاگ گئے اور یکم فروری کو آیت اللہ خمینی ایران لوٹے، تو انہوں نے ایک ایسا تھیوکریٹک-ریپبلک نظام قائم کیا جس نے امریکی خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔

تجزیہ: جنوری 2026 کے مظاہرے اور ٹرمپ کا سیاسی جوا

ایران کا موجودہ آئینی ڈھانچہ ایک عجیب و غریب ہائبرڈ ہے۔ وہاں صدر اور پارلیمنٹ منتخب تو ہوتے ہیں، مگر اصل طاقت ایک غیر منتخب 12 رکنی شوریٰ (کونسل آف گارڈینز) اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے جو براہِ راست سپریم لیڈر کو جوابدہ ہیں۔ جنوری 2026 میں موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دور میں ہونے والے حالیہ عوامی مظاہروں کو جس بے رحمی سے کچلا گیا، وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران میں طاقت کا اصل سرچشمہ آج بھی تشدد اور سخت گیر عناصر کے پاس ہی ہے۔

سابقہ ریکارڈ اور ہسٹری کا ایورگرین پسِ منظر:

  • 2018 کا یو ٹرن: باراک اوباما نے بڑی مشکل سے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدہ (JCPOA) طے کیا تھا، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں یکطرفہ طور پر ختم کر کے خطے کو دوبارہ آگ میں جھونک دیا۔
  • جیمی کارٹر کا انجام: 1979 کے ایرانی انقلاب اور امریکی یرغمالیوں کے بحران نے امریکہ کے بہترین صدور میں سے ایک، جیمی کارٹر کا سیاسی کیریئر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا۔
  • ٹرمپ کی حالیہ بوکھلاہٹ: نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم الیکشنز میں گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ٹرمپ اب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ایران کے خلاف فوجی حملوں کے بعد اب جلدی میں کوئی بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

تبصرہ: تاریخ گواہ ہے کہ ایران کے بحران نے ماضی میں جیمی کارٹر جیسے صدر کا سیاسی خاتمہ کیا تھا، اور اب یہ موجودہ امریکی قیادت کے سیاسی کیریئر کے خاتمے کی وجہ بھی بن سکتا ہے کیونکہ تہران کے پیچیدہ سیاسی نظام کو سمجھے بغیر کوئی بھی عارضی ڈیل دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔


⬇️ Click to Read this Analysis in English
Analysis by: Nasrullah Warraich

Iran: America’s Achilles’ Heel — A Legacy of Washington’s Strategic Failures


The core issue behind the anticipated Memorandum of Understanding is the persistent lack of understanding of Iran’s political architecture by Trump and his administration. From the 1953 CIA-led coup against Mossadegh to the miscalculations of the 1979 Islamic Revolution, US foreign policy toward Tehran has repeatedly suffered from a toxic combination of hubris, ignorance, and incompetence.

From the 1979 Hostage Crisis to January 2026 Protests

Drawing insights from recent historical accounts, Washington has consistently misread the ground realities of Iran. The brutal repression during the January 2026 protests under Ayatollah Ali Khamenei underscores that theocratic violence remains central to the regime. Much like how the 1979 hostage crisis politically finished off President Jimmy Carter, the failure to address the Strait of Hormuz and the flawed withdrawal from the 2015 JCPOA nuclear deal might soon seal the fate of the current US administration ahead of the crucial November mid-term elections.

Comments