"38 میں سے 35 مطالبات پورے کر دیے"
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مظاہرین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان کے 38 میں سے 35 مطالبات پہلے ہی تسلیم کر لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ 3 مطالبات عدالتی کارروائی کے باعث التوا کا شکار ہیں۔ حکومت نے امن قائم کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف درج 170 ایف آئی آرز (FIRs) ختم کر دیں، جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین کو سرکاری اہلکاروں کے برابر مالی معاوضہ دیا اور ان کے خاندانوں کو ملازمتوں کی پیشکش بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت آزاد کشمیر کی کابینہ کا سائز 36 سے گھٹا کر 20 اور وزارتیں 32 سے کم کر کے 22 کر دی گئی ہیں، جو کہ حکومت کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: جھڑپوں کا سچ اور بیرونی خطرات
آزاد کشمیر کی حالیہ لہر میں راولاکوٹ کے مقام پر سی ایم ایچ (CMH) کے باہر دھرنے کے دوران شدید فائرنگ ہوئی، جس میں پولیس کے مطابق 4 سیکیورٹی اہلکار (بشمول ایف سی جوان) اور 3 مظاہرین جاں بحق ہوئے، جبکہ ایکشن کمیٹی نے ہلاکتوں کی تعداد 7 بتائی ہے۔ اس نازک صورتحال پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری یہ بدامنی ہمارے دشمنوں، بالخصوص "بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ" کو پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کا ایک غیر ضروری موقع فراہم کر رہی ہے، اس لیے دھرنے کو فوری پرامن انجام تک پہنچایا جائے۔
ماضی کا ریکارڈ اور 12 نشستوں کا تنازع (Evergreen Context):
آزاد کشمیر کا یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور آئینی تاریخ کا ایک طویل پسِ منظر موجود ہے:
- اکتوبر کا خونی احتجاج (2025): گزشتہ سال اکتوبر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہنگائی، بجلی کے بلوں اور مراعات کے خلاف ایک بہت بڑا لانگ مارچ کیا تھا، جس میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
- حکومت کی تبدیلی: اس احتجاج اور سیاسی اتھل پتھل کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی، جس کے بعد 17 نومبر کو پیپلز پارٹی کے فیصل راٹھور آزاد کشمیر کے 16ویں وزیرِ اعظم بنے۔
- 12 مہاجر نشستوں کا تنازع: آزاد کشمیر اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں ان کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں جو 1947 اور 1965 میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے تھے۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ ان نشستوں کو یکسر ختم کیا جائے کیونکہ یہ غیر منصفانہ ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ نمائندگی کشمیر کاز کے لیے آئینی طور پر محفوظ ہے۔
- آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ: 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں مظفر آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (APC) کا پی ٹی آئی اور ایکشن کمیٹی نے بائیکاٹ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے یہ بحران اب الیکشن سے پہلے مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ہماری رائے میں، محض 12 نشستوں کے تنازع پر وادی کو جنگ کا میدان بنا دینا اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔ الیکشن سر پر ہیں، اور اب یہ آزاد کشمیر کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ گولیوں کے بجائے ڈائیلاگ کے ذریعے کشمیر کے امن کو کیسے بحال کرتے ہیں۔

Comments
Post a Comment