وادی میں پھر تناؤ! وفاق کا بڑا فیصلہ، کشمیر ایکشن کمیٹی سے براہِ راست مذاکرات بند

Federal Minister Tariq Fazal Chaudhry addressing a press conference regarding the Azad Kashmir situation
آزاد جموں و کشمیر (AJK) میں حالیہ خونریز جھڑپوں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بعد وفاقی حکومت نے ایک بڑا اور سخت فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کر دیا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے ساتھ اب حکومت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں کرے گی۔ حکومت نے کمیٹی پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر اپنے مطالبات کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرے۔ تاہم، وفاق نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے نوجوان وزیرِ اعظم فیصل راٹھور اس معاملے کو بالواسطہ (Indirect) طریقے سے حل کرنا چاہیں، تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

"38 میں سے 35 مطالبات پورے کر دیے"

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مظاہرین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان کے 38 میں سے 35 مطالبات پہلے ہی تسلیم کر لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ 3 مطالبات عدالتی کارروائی کے باعث التوا کا شکار ہیں۔ حکومت نے امن قائم کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف درج 170 ایف آئی آرز (FIRs) ختم کر دیں، جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین کو سرکاری اہلکاروں کے برابر مالی معاوضہ دیا اور ان کے خاندانوں کو ملازمتوں کی پیشکش بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت آزاد کشمیر کی کابینہ کا سائز 36 سے گھٹا کر 20 اور وزارتیں 32 سے کم کر کے 22 کر دی گئی ہیں، جو کہ حکومت کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: جھڑپوں کا سچ اور بیرونی خطرات

آزاد کشمیر کی حالیہ لہر میں راولاکوٹ کے مقام پر سی ایم ایچ (CMH) کے باہر دھرنے کے دوران شدید فائرنگ ہوئی، جس میں پولیس کے مطابق 4 سیکیورٹی اہلکار (بشمول ایف سی جوان) اور 3 مظاہرین جاں بحق ہوئے، جبکہ ایکشن کمیٹی نے ہلاکتوں کی تعداد 7 بتائی ہے۔ اس نازک صورتحال پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری یہ بدامنی ہمارے دشمنوں، بالخصوص "بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ" کو پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کا ایک غیر ضروری موقع فراہم کر رہی ہے، اس لیے دھرنے کو فوری پرامن انجام تک پہنچایا جائے۔

ماضی کا ریکارڈ اور 12 نشستوں کا تنازع (Evergreen Context):

آزاد کشمیر کا یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور آئینی تاریخ کا ایک طویل پسِ منظر موجود ہے:

  • اکتوبر کا خونی احتجاج (2025): گزشتہ سال اکتوبر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہنگائی، بجلی کے بلوں اور مراعات کے خلاف ایک بہت بڑا لانگ مارچ کیا تھا، جس میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
  • حکومت کی تبدیلی: اس احتجاج اور سیاسی اتھل پتھل کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی، جس کے بعد 17 نومبر کو پیپلز پارٹی کے فیصل راٹھور آزاد کشمیر کے 16ویں وزیرِ اعظم بنے۔
  • 12 مہاجر نشستوں کا تنازع: آزاد کشمیر اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں ان کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں جو 1947 اور 1965 میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے تھے۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ ان نشستوں کو یکسر ختم کیا جائے کیونکہ یہ غیر منصفانہ ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ نمائندگی کشمیر کاز کے لیے آئینی طور پر محفوظ ہے۔
  • آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ: 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں مظفر آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (APC) کا پی ٹی آئی اور ایکشن کمیٹی نے بائیکاٹ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے یہ بحران اب الیکشن سے پہلے مزید سنگین ہو گیا ہے۔

ہماری رائے میں، محض 12 نشستوں کے تنازع پر وادی کو جنگ کا میدان بنا دینا اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔ الیکشن سر پر ہیں، اور اب یہ آزاد کشمیر کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ گولیوں کے بجائے ڈائیلاگ کے ذریعے کشمیر کے امن کو کیسے بحال کرتے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

AJK Crisis: Federal Government Rules Out Direct Talks with Proscribed JAAC Amid Rising Tensions


ISLAMABAD: Federal Minister for Parliamentary Affairs Dr. Tariq Fazal Chaudhry announced that the government will not engage in direct negotiations with the recently banned Joint Awami Action Committee (JAAC). Following deadly clashes in Rawalakot that left at least seven dead, the federation urged the group to adopt constitutional means, while giving AJK Prime Minister Faisal Rathore the green light to pursue indirect dialogue.

The Historic Timeline and the 12 Refugee Seats Dispute

The unrest stems from deep-rooted grievances including a charter of demands presented during last October's turbulent protests, which led to the ouster of former PM Anwarul Haq and the election of Faisal Rathore on November 17. The core deadlock revolves around the JAAC’s demand to abolish the 12 legislative assembly seats reserved for Kashmiri refugees, an issue that political parties insist can only be resolved through constitutional amendments by the newly elected assembly in the upcoming July 27 polls.

Comments