ورلڈ کپ میں ویزا تنازع! گھانا حکومت اپنے اسٹار فٹبالر کے لیے کینیڈین عدالت پہنچ گئی

Ghanaian midfielder Thomas Partey in action, facing visa issues ahead of the World Cup match
فٹبال ورلڈ کپ کا میلہ سجتے ہی ایک بڑا سفارتی اور قانونی طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ گھانا کی حکومت نے اپنے اسٹار مڈفیلڈر تھامس پارٹے (Thomas Partey) کو ویزا دینے سے کینیڈا کے انکار کے خلاف کینیڈین عدالت میں باقاعدہ مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ تھامس پارٹے پر برطانیہ میں چلنے والے سنگین مجرمانہ مقدمات کی وجہ سے کینیڈا نے انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد وہ بدھ کے روز ٹورنٹو میں پاناما کے خلاف گھانا کے اوپننگ میچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ گھانا حکومت نے کینیڈا کے اس فیصلے کو "انتہائی غیر منصفانہ اور جابرانہ" قرار دیتے ہوئے عدالت سے ہنگامی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔

سنگین الزامات اور ورلڈ کپ کا داؤ: انسانی و قانونی پہلو

33 سالہ سابق آرسنل اور موجودہ ویاریال (Villarreal) کے اسٹار فٹبالر تھامس پارٹے کا ماضی کافی متنازع رہا ہے۔ ان پر سال 2020 سے 2022 کے دوران چار مختلف خواتین کی طرف سے ریپ اور جنسی حملوں کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے، جن کا مقدمہ اگلے سال عدالت میں چلنا ہے۔ اگرچہ پارٹے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دے چکے ہیں، لیکن کینیڈا کے سخت امیگریشن قوانین کے مطابق کسی بھی ایسے شخص کو ویزا نہیں دیا جا سکتا جس پر سنگین جرائم کے مقدمات چل رہے ہوں۔ گھانا کے وزیرِ خارجہ سیموئل اوکودزیٹو ابلاکوا اب سفارتی سطح پر بھی کینیڈا سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ پارٹے کو صرف میچ کھیلنے کے لیے مختصر مدت کا ویزا مل سکے۔

دوسری طرف، کینیڈا کے محکمہ امیگریشن (IRCC) نے بڑا واضح مؤقف اپنایا ہے کہ "بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کرنے سے کینیڈا کے امیگریشن قوانین تبدیل نہیں ہو جاتے۔ ہر شخص کا فیصلہ قانون کے مطابق الگ کیا جاتا ہے۔" گھانا کی ٹیم کو آگے امریکہ کے شہروں بوسٹن اور فلاڈیلفیا میں بھی میچز کھیلنے ہیں، لیکن اگر وہ اپنے گروپ میں دوسرے نمبر پر رہے تو انہیں دوبارہ میچ کے لیے کینیڈا آنا پڑ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گھانا حکومت اس کیس کو ہر حال میں جیتنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: قانون سب کے لیے برابر یا کھیل دشمنی؟

اس پوری صورتحال پر تجزیہ یہ بنتا ہے کہ کینیڈا نے ایک بار پھر دنیا کو دکھایا ہے کہ مغرب میں قانون کی بالادستی کسی بھی وی آئی پی (VIP) شخصیت یا عالمی اسپورٹس ایونٹ سے اوپر ہوتی ہے۔ گھانا کے ہیڈ کوچ کارلوس کوئروز نے پارٹے کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں ٹیم کا حصہ بنایا تھا، کیونکہ وہ 50 سے زائد انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔ لیکن کینیڈا کا یہ سخت فیصلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کھیلوں کے میدانوں کی چمک دمک بھی عدالتوں کے فیصلوں کے سامنے ہیچ ہے۔

ورلڈ کپ کی تاریخ کے بڑے ویزا اور انٹری تنازعات (Evergreen Context):

کھیلوں کی تاریخ میں ایسے کئی بڑے تنازعات ہو چکے ہیں جہاں اسٹار کھلاڑیوں کو قوانین کی وجہ سے ملک بدر یا ویزا سے محروم کیا گیا:

  • نوواک جوکووچ آسٹریلین اوپن (2022): دنیا کے نمبر ون ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ کو کورونا ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے آسٹریلیا کی حکومت نے ایئرپورٹ سے ہی حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا تھا، جس پر بڑا عالمی تنازع کھڑا ہوا۔
  • ڈیاگو میراڈونا یو ایس اے ورلڈ کپ (1994): ارجنٹائن کے لیجنڈ فٹبالر میراڈونا کو امریکہ میں ورلڈ کپ کے دوران ڈرگ ٹیسٹ مثبت آنے پر ٹورنامنٹ سے باہر کر کے گھر بھیج دیا گیا تھا۔
  • سرج ہوریئر ویزا تنازع (2016): پیرس سینٹ جرمین (PSG) کے فٹبالر سرج ہوریئر کو پولیس افسر پر تشدد کے مقدمے کی وجہ سے برطانیہ نے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا اور وہ چیمپیئنز لیگ کا میچ نہیں کھیل سکے تھے۔

اوٹاوا کی عدالت میں ہونے والی یہ سماعت اب صرف گھانا کے ورلڈ کپ کے سفر کا فیصلہ نہیں کرے گی، بلکہ یہ کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی قانونی مثال قائم کرے گی۔ کیا گھانا اپنے اسٹار کھلاڑی کو میدان میں اتارنے میں کامیاب ہو پائے گا؟ اس کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔


⬇️ Click to Read this Sports Story in English

World Cup Crisis: Ghana Takes Canada to Court Over Thomas Partey's Visa Refusal


OTTAWA: The Ghanaian government has launched an urgent legal challenge in a Canadian court following Canada's refusal to grant a visa to midfielder Thomas Partey. The 33-year-old Villarreal player is set to miss Ghana's World Cup opener against Panama in Toronto due to ongoing criminal proceedings in the UK involving sexual assault allegations, which Partey strongly denies.

Immigration Laws Stand Firm Against Sporting Events

Ghana's Foreign Minister Samuel Okudzeto Ablakwa stated that the country is also pursuing diplomatic channels to secure entry for the former Arsenal star. However, Immigration, Refugees and Citizenship Canada (IRCC) maintained its firm stance, emphasizing that hosting a major sporting event does not alter the nation's strict immigration laws and every individual is assessed strictly by the legal framework.

Comments