ایف بی آر میں بڑی تبدیلیاں؛ ٹیکس نظام سے انسانی مداخلت ختم کرنے کا جامع منصوبہ تیار، وزیراعظم کا بڑا حکم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ایف بی آر (FBR) کی اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس نئے منصوبے کے نفاذ سے جہاں ملکی محصولات میں ریکارڈ اضافہ ہوگا، وہاں ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔
ان لینڈ ریونیو کو فیس لیس (Faceless) بنانے کی تیاری
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس خود کار اور مؤثر ٹیکس منیجمنٹ نظام حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ایف بی آر میں اصلاحات کا یہ عمل بلا تعطل جاری رہے گا۔
آٹومیٹڈ نظام کا پائلٹ پروجیکٹ اور اسمگلنگ کے خلاف ایکشن
وزیراعظم نے ٹیکس وصولی کے اس جدید ڈیجیٹل نظام کو فوری طور پر نافذ کرنے کے لیے اہم احکامات صادر کیے۔ اجلاس کے اہم فیصلے اور نکات درج ذیل ہیں:
- اسلام آباد سے آغاز: وزیراعظم شہباز شریف نے انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ (خود کار) نظام کا پائلٹ پروجیکٹ سب سے پہلے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
- صوبائی حکومتوں کی تعریف: ملک بھر میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹس کے خلاف چلائی جانے والی مؤثر کارروائیوں پر وزیراعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
- شفافیت کا فروغ: نئے نظام کا مقصد کرپشن کے راستے بند کرنا اور ٹیکس دہندگان کو ہراساں کیے بغیر براہِ راست ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اس آٹومیٹڈ نظام کے پورے ملک میں نفاذ سے ٹیکس چوری کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور ملکی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا۔

Comments
Post a Comment