پرمٹ کی فیس، شرائط اور ٹیسٹ کا طریقہ کار
ٹریفک پولیس کی گائیڈ لائنز کے مطابق، یہ پرمٹ صرف 125 سی سی تک کی موٹر سائیکل یا اسکوٹی چلانے کے لیے کارآمد ہوگا۔ اس پرمٹ کو حاصل کرنے کے لیے درج ذیل شرائط کو پورا کرنا لازمی ہوگا:
- لازمی دستاویزات: امیدوار کے پاس اسمارٹ کارڈ یا نادرا کا ب فارم (B-Form) ہونا ضروری ہے۔
- والدین کی رضامندی: والدین کے دستخط شدہ اجازت نامے کے بغیر یہ پرمٹ کسی صورت جاری نہیں کیا جائے گا۔
- سرکاری فیس: جووینائل پرمٹ کی سالانہ فیس صرف 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔
- ڈرائیونگ ٹیسٹ: لائسنسنگ سینٹر پر امیدوار کو پہلے کمپیوٹرائزڈ سائن ٹیسٹ (اشاروں کا ٹیسٹ) اور پھر روڈ ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا، جس کے بعد موقع پر ہی پرمٹ دے دیا جائے گا۔
تبصرہ و تجزیہ: ون ویلنگ پر پرمٹ ہمیشہ کے لیے منسوخ
پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ جہاں اسکول اور کالج جانے والے بچوں کے لیے ایک بڑی سفری سہولت ہے، وہاں ٹریفک قوانین کو نافذ کرنے کا ایک بہترین اسٹریٹیجک طریقہ بھی ہے۔ اب تک 18 سال سے کم عمر بچے چھپ کر یا غیر قانونی طور پر بائیک چلاتے تھے، لیکن اب وہ قانون کے دائرے میں آ جائیں گے۔ تاہم، ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ہلمٹ کا استعمال، سائیڈ مررز اور انڈی کیٹرز کا ہونا لازمی ہے۔ اگر کوئی نوجوان ون ویلنگ (One-Wheeling)، رانگ وے یا خطرناک ڈرائیونگ میں ملوث پایا گیا، تو نہ صرف سخت قانونی کارروائی ہوگی بلکہ اس کا جووینائل پرمٹ ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا جائے گا۔
پاکستان میں کم عمر ڈرائیونگ کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
پنجاب میں ٹریفک قوانین اور انڈر ایج ڈرائیونگ کا پسِ منظر اس نئے قانون کی اہمیت کو واضح کرتا ہے:
- موٹر ویکل آرڈیننس 1965: اس قدیم قانون کے تحت پاکستان میں کسی بھی قسم کی ڈرائیونگ کے لیے کم از کم عمر 18 سال ہونا لازمی تھی، جس میں اب پنجاب حکومت نے پہلی بار بڑی ترمیم کی ہے۔
- انڈر ایج کریک ڈاؤن (2023-2024): پچھلے سالوں میں پنجاب پولیس نے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مہم چلائی تھی، جس میں ہزاروں موٹر سائیکلیں بند کی گئیں اور والدین پر بھاری جرمانے عائد ہوئے، جس کے بعد اس نئے اجازت نامے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔
- عالمی معیار (International Standards): دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک (جیسے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا) میں نوجوانوں کو سیکھنے کے لیے 16 سال کی عمر میں 'لرنر یا جووینائل پرمٹ' جاری کرنے کا قانون پہلے سے موجود ہے، جس کی طرز پر اب پنجاب میں بھی عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ کے بچے کی عمر بھی 16 سے 18 سال کے درمیان ہے، تو فوری طور پر قریبی لائسنسنگ سینٹر کا وزٹ کریں اور اپنے بچے کو ایک ذمہ دار شہری بنانے کے لیے اس کا پرمٹ حاصل کریں۔ یاد رکھیں، قانون کی پاسداری ہی محفوظ سفر کی ضمانت ہے۔

Comments
Post a Comment