معصوم بچیاں نشانے پر! وائرل ویڈیو نے معاشرتی زوال کا کچا چٹھا کھول دیا

Symbolic image representing child safety and the scales of justice in Pakistan
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک انتہائی دل دہلا دینے والی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس میں ایک وحشی درندے کو ایک معصوم اور ننھی بچی کو سرعام ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ چادر، چار دیواری اور بچوں کے تحفظ کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے معاشرے کے منہ پر یہ واقعہ ایک زوردار طماچہ ہے۔ جب گلی محلوں میں ہماری بیٹیاں ہی محفوظ نہ رہیں، تو ریاست اور نظامِ انصاف کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

"سیدھی گولیاں" بمقابلہ "سرکاری بیانات": طاقت کا دہرا معیار

عوام کا سب سے بڑا غصہ اس بات پر ہے کہ جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے (جیسے سی ٹی ڈی یا پولیس) بعض اوقات عام اور بے گناہ شہریوں پر سیدھی گولیاں چلانے میں دیر نہیں کرتے، وہاں ایسے حقیقی درندوں اور بچوں کے شکاریوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف لیت و لعل اور روایتی "نیفے والے بیانات" سامنے آتے ہیں۔ اگر قانون کی گرفت اتنی ہی سخت ہوتی جتنی عام آدمی پر ہوتی ہے، تو شاید ان درندوں کو کسی معصوم کلی کو مسلنے سے پہلے اپنی موت نظر آتی۔

یہاں بنیادی تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی اصل وجہ سزاؤں پر عملدرآمد نہ ہونا اور کیسز کو لٹکانا ہے۔ جب تک ایسے وحشیوں کو سرِعام عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، تب تک تھانوں کے ریکارڈ اور فائلیں اسی طرح معصوموں کے خون سے رنگتی رہیں گی۔ قانون کا کام صرف بیانات دینا نہیں بلکہ شہریوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

ماضی کا ریکارڈ اور قوانین کا پسِ منظر (Evergreen Context):

پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور اس طرح کے بھیانک جرائم کے خلاف عوامی تحریکوں اور قوانین کا ایک طویل پسِ منظر موجود ہے:

  • سانحہ قصور اور زینب الرٹ بل (2018): ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے ہولناک ظلم کے بعد ملک گیر احتجاج ہوا، جس کے نتیجے میں "زینب الرٹ، ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ" منظور کیا گیا تاکہ بچوں کے خلاف جرائم پر فوری ایکشن لیا جا سکے۔
  • آئینی تحفظ (Article 35 & 25): آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25 اور 35 واضح طور پر ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات اور قوانین وضع کرے۔
  • کاسٹریشن قانون (Anti-Rape Law): جنسی درندوں کو سخت ترین سزائیں دینے اور ان کی نامردگی (Chemical Castration) کے قوانین بھی منظور ہوئے، لیکن ان پر عملدرآمد کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔

معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ نظامِ عدل بیدار ہو اور ان بھیڑیوں کو تھانوں کی وی آئی پی سیکیورٹی دینے کے بجائے اس سڑک پر عبرت کا نشان بنائے جہاں انہوں نے کسی کی بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالا۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Shame on Humanity: Viral Video of Minor Girl Being Harassed Sparks Public Fury


ISLAMABAD: A horrific viral video showing a predator harassing a minor girl in a public street has triggered intense outrage across Pakistan. Citizens are fiercely questioning the justice system, slamming the double standards where law enforcement agencies show extreme force against innocent citizens but deliver mere paper-thin statements against actual child abusers.

The Dilemma of Child Protection Laws in Pakistan

Despite the historic enactment of the Zainab Alert Bill and stringent anti-rape laws, implementation remains critically low. Activists and legal experts emphasize that until the state ensures swift capital punishment and severe accountability for child predators, the constitutional guarantees protecting the life and dignity of minors will continue to fail on the ground.

Comments