"سیدھی گولیاں" بمقابلہ "سرکاری بیانات": طاقت کا دہرا معیار
عوام کا سب سے بڑا غصہ اس بات پر ہے کہ جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے (جیسے سی ٹی ڈی یا پولیس) بعض اوقات عام اور بے گناہ شہریوں پر سیدھی گولیاں چلانے میں دیر نہیں کرتے، وہاں ایسے حقیقی درندوں اور بچوں کے شکاریوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف لیت و لعل اور روایتی "نیفے والے بیانات" سامنے آتے ہیں۔ اگر قانون کی گرفت اتنی ہی سخت ہوتی جتنی عام آدمی پر ہوتی ہے، تو شاید ان درندوں کو کسی معصوم کلی کو مسلنے سے پہلے اپنی موت نظر آتی۔
یہاں بنیادی تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی اصل وجہ سزاؤں پر عملدرآمد نہ ہونا اور کیسز کو لٹکانا ہے۔ جب تک ایسے وحشیوں کو سرِعام عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، تب تک تھانوں کے ریکارڈ اور فائلیں اسی طرح معصوموں کے خون سے رنگتی رہیں گی۔ قانون کا کام صرف بیانات دینا نہیں بلکہ شہریوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
ماضی کا ریکارڈ اور قوانین کا پسِ منظر (Evergreen Context):
پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور اس طرح کے بھیانک جرائم کے خلاف عوامی تحریکوں اور قوانین کا ایک طویل پسِ منظر موجود ہے:
- سانحہ قصور اور زینب الرٹ بل (2018): ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے ہولناک ظلم کے بعد ملک گیر احتجاج ہوا، جس کے نتیجے میں "زینب الرٹ، ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ" منظور کیا گیا تاکہ بچوں کے خلاف جرائم پر فوری ایکشن لیا جا سکے۔
- آئینی تحفظ (Article 35 & 25): آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25 اور 35 واضح طور پر ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات اور قوانین وضع کرے۔
- کاسٹریشن قانون (Anti-Rape Law): جنسی درندوں کو سخت ترین سزائیں دینے اور ان کی نامردگی (Chemical Castration) کے قوانین بھی منظور ہوئے، لیکن ان پر عملدرآمد کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔
معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ نظامِ عدل بیدار ہو اور ان بھیڑیوں کو تھانوں کی وی آئی پی سیکیورٹی دینے کے بجائے اس سڑک پر عبرت کا نشان بنائے جہاں انہوں نے کسی کی بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالا۔
Comments
Post a Comment