امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک باقاعدہ اور ہولناک جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جمعرات کو مسلسل دوسرے روز دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں، جس کے بعد رواں سال اپریل میں ہونے والا عارضی جنگ بندی کا معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے فوری طور پر امریکی شرائط پر امن معاہدہ تسلیم نہ کیا تو ایران پر اس سے بھی زیادہ سخت بمباری کی جائے گی۔
امریکی بمباری اور ایران کا کویت، بحرین اور اردن پر جوابی وار
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، امریکی فضائیہ اور بحریہ نے رات گئے ایران کے فوجی مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور سیکیورٹی سینٹرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ "اگر ہمیں بموں کے ذریعے مذاکرات کرنے پڑے، تو ہم بموں سے ہی بات کریں گے۔" دوسری جانب، ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بھی انتہائی جارحانہ ردِعمل دیتے ہوئے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں سمیت بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ (Fifth Fleet) پر ہولناک جوابی حملے کیے۔ ایران نے اردن میں قائم امریکی الایزرق ایئر بیس پر بھی 12 بیلسٹک میزائل داغے۔
اس خونی تصادم کا آغاز رواں ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ہوا۔ اب ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر حملے کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت تہران کی دھمکیوں کے باوجود جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر 3 ڈالر کا بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکہ پر واٹر پلانٹ تباہ کرنے اور جنگی جرائم کا الزام
اس جنگ کے دوران امریکی بمباری سے سویلین آبادی کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- پینے کے پانی کی تنصیبات تباہ: امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق، سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوئی ہے کہ امریکی گائیڈڈ بموں نے جنوبی ایران کے علاقے بمانی میں پینے کے پانی کے ذخائر اور پلانٹ کو تباہ کر دیا ہے۔
- 20 ہزار آبادی پانی سے محروم: ایرانی حکام کے مطابق اس سویلین تنصیب پر حملے کے نتیجے میں 10 سے زائد دیہاتوں کے 20,000 سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
- جنگی جرم کا دعویٰ: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی حملے کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا "جنگی جرم" اور جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایک طرف امریکہ اور ایران کی یہ جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، تو دوسری طرف لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے بھی جاری ہیں جہاں بدھ کے روز مزید 13 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں، جس سے پورا خطہ ایک بڑی عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

Comments
Post a Comment