یوکرین جنگ میں شامل روسی فوجیوں کے یورپی یونین میں داخلے پر مستقل پابندی کا فیصلہ

European Commission President Ursula von der Leyen announcing new EU sanctions against Russia and entry ban on soldiers
یورپی یونین نے روس کے خلاف پابندیوں کے ایک اور بڑے اور تاریخی پیکیج کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے منگل کے روز ایک اہم پریس کانفرنس میں ان نئی تجاویز کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی تاریخ میں پہلی بار یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ یوکرین جنگ کے آغاز سے اب تک روسی مسلح افواج میں خدمات سرانجام دینے والے کسی بھی فوجی یا اہلکار کے یورپی یونین کی حدود میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ یعنی یوکرین پر حملے میں حصہ لینے والے کسی بھی شخص کے لیے یورپ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔

بینک، کرپٹو کمپنیاں اور روسی تیل کے ریونیو بھی نشانے پر

روسی فوجیوں پر ویزا پابندی کا یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے 21 ویں پیکیج کا حصہ ہے۔ اس نئی قانون سازی کے تحت نہ صرف فوجیوں بلکہ روس کی معاشی بنیادوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نئی تجاویز کے مطابق یورپی یونین روسی تیل کی قیمتوں پر 44 ڈالر کی حد (Price Cap) کو جنوری 2027 تک برقرار رکھنا چاہتی ہے، تاکہ کریملن عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس کے علاوہ روس کی مدد کرنے والے تیسرے ممالک کے 20 بینکوں، آئل ٹریڈرز اور کرپٹو کرنسی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یورپی حکام روس کے "شیڈو فلیٹ" (پوشیدہ بحری بیڑے) کے مزید 30 بحری جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو مغربی پابندیوں سے بچ کر روسی تیل کی سپلائی میں مدد کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 632 بحری جہازوں پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس تساہکنا نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق روسی فوجیوں اور مجرموں کا یورپ میں داخلہ یورپی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا تھا، اس لیے یہ ویزا پابندی ناگزیر تھی۔

تجارت پر مزید قدغنیں اور یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت پر پیش رفت

اس نئے پیکیج میں روس سے ہونے والی درآمدات پر دائرہ تنگ کر دیا گیا ہے، جس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • مچھلی اور دھاتوں کی درآمد پر پابندی: پہلی بار روس سے مچھلی (Cod Fish) کی درآمد پر پابندی تجویز کی گئی ہے، اس کے علاوہ 60 ملین یورو مالیت کی روسی دھاتوں، کچ دھاتوں اور گاڑیوں کے پرزوں پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔
  • دفاعی صنعت کے لیے برآمدی پابندیاں: یورپی یونین سے روس کو خلائی اور دفاعی صنعت میں استعمال ہونے والی دھاتوں اور ڈرون آلات کی برآمد پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
  • یوکرین کے لیے بڑی کامیابی: ارسلا وان ڈیر لیین نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین اور مالدووا کی یورپی یونین میں باقاعدہ شمولیت کے لیے مذاکرات کا پہلا مرحلہ اگلے ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔

روس پر عائد کی جانے والی یہ نئی پابندیاں جہاں ماسکو کی معیشت کو مزید کمزور کریں گی، وہاں آئرلینڈ میں موجود روسی ملکیتی ایلومینا پلانٹ (Aughinish) جیسے تضادات اب بھی یورپی اتحاد کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

EU Proposes Entry Ban on Russian Soldiers in Latest Wave of Sanctions


BRUSSELS: The European Union is planning to bar anyone who has served in the Russian armed forces since the start of the Ukraine war from entering its territory. Announcing the proposal on Tuesday, European Commission President Ursula von der Leyen stated that Europe will stay off-limits to those participating in the invasion. The visa ban is part of the EU's 21st sanctions package aimed at cutting deep into Russia's economic foundations.

Targeting Oil Revenues, Banks, and Crypto Firms

The proposed measures include maintaining a $44 price cap on Russian oil until January 2027 and adding 30 more "shadow fleet" vessels to the EU blacklist. Furthermore, the EU seeks to impose sanctions on 20 banks, oil traders, and cryptocurrency firms in third countries that are helping Moscow bypass existing Western capital market restrictions.

Trade Bans and Ukraine Accession Talks

For the first time, the EU plans to ban Russian fish imports, alongside restrictions on metals, ores, and car parts worth €60m. Export bans will also target drone technology and aerospace components. Amid the new sanctions, Von der Leyen confirmed that formal EU accession negotiations with Ukraine and Moldova will officially commence next week.

Comments