بینک، کرپٹو کمپنیاں اور روسی تیل کے ریونیو بھی نشانے پر
روسی فوجیوں پر ویزا پابندی کا یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے 21 ویں پیکیج کا حصہ ہے۔ اس نئی قانون سازی کے تحت نہ صرف فوجیوں بلکہ روس کی معاشی بنیادوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نئی تجاویز کے مطابق یورپی یونین روسی تیل کی قیمتوں پر 44 ڈالر کی حد (Price Cap) کو جنوری 2027 تک برقرار رکھنا چاہتی ہے، تاکہ کریملن عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس کے علاوہ روس کی مدد کرنے والے تیسرے ممالک کے 20 بینکوں، آئل ٹریڈرز اور کرپٹو کرنسی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یورپی حکام روس کے "شیڈو فلیٹ" (پوشیدہ بحری بیڑے) کے مزید 30 بحری جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو مغربی پابندیوں سے بچ کر روسی تیل کی سپلائی میں مدد کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 632 بحری جہازوں پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس تساہکنا نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق روسی فوجیوں اور مجرموں کا یورپ میں داخلہ یورپی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا تھا، اس لیے یہ ویزا پابندی ناگزیر تھی۔
تجارت پر مزید قدغنیں اور یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت پر پیش رفت
اس نئے پیکیج میں روس سے ہونے والی درآمدات پر دائرہ تنگ کر دیا گیا ہے، جس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- مچھلی اور دھاتوں کی درآمد پر پابندی: پہلی بار روس سے مچھلی (Cod Fish) کی درآمد پر پابندی تجویز کی گئی ہے، اس کے علاوہ 60 ملین یورو مالیت کی روسی دھاتوں، کچ دھاتوں اور گاڑیوں کے پرزوں پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔
- دفاعی صنعت کے لیے برآمدی پابندیاں: یورپی یونین سے روس کو خلائی اور دفاعی صنعت میں استعمال ہونے والی دھاتوں اور ڈرون آلات کی برآمد پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
- یوکرین کے لیے بڑی کامیابی: ارسلا وان ڈیر لیین نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین اور مالدووا کی یورپی یونین میں باقاعدہ شمولیت کے لیے مذاکرات کا پہلا مرحلہ اگلے ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔
روس پر عائد کی جانے والی یہ نئی پابندیاں جہاں ماسکو کی معیشت کو مزید کمزور کریں گی، وہاں آئرلینڈ میں موجود روسی ملکیتی ایلومینا پلانٹ (Aughinish) جیسے تضادات اب بھی یورپی اتحاد کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

Comments
Post a Comment