"آئرن کلیڈ ناکہ بندی" اور ٹرمپ کا اگلا پلان: تجزیہ
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران نے وقت کی پابندی نہ کی اور لیت و لعل سے کام لیا، تو امریکہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہیگستھ کے الفاظ میں، "اگر ایران نے تعمیل نہ کی، تو ہم اس کی ایسی سخت ناکہ بندی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جسے توڑنا ناممکن ہو گا"۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کو مکمل طور پر سیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پڑے گا اور یہ بزنس کی دنیا کے لیے ایک بڑا زلزلہ ہو گا۔
نیٹو اتحادیوں پر غصہ: "یورپ کا یہ رویہ شرمناک ہے"
اس اسٹوری کا سب سے سنسنی خیز پہلو پیٹ ہیگستھ کا اپنے ہی اتحادیوں یعنی نیٹو ممالک پر شدید غصہ ہے۔ انہوں نے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے نسلوں سے یورپ کا دفاع کیا ہے، لیکن جب مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی طیاروں کو یورپی اڈوں اور بندرگاہوں کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑی، تو ان اتحادیوں نے صاف انکار کر دیا یا پھر وہ ہمیں پیچیدہ قانونی بحثوں میں الجھانے لگے۔ انہوں نے یورپی ممالک کے اس رویے کو "شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔
امریکہ، ایران اور نیٹو کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اس نئی دھمکی اور نیٹو کے مابین دراڑ کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ریکارڈز پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- نیٹو کا دباؤ (NATO Rift): یہ پہلی بار نہیں ہے کہ یورپی ممالک نے ایران پر حملے کے لیے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہو۔ 2018 میں جب ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدہ (JCPOA) یکطرفہ طور پر ختم کیا تھا، تب بھی جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے امریکی فیصلے کی مخالفت کی تھی اور ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے طریقے ڈھونڈے تھے۔
- بحری ناکہ بندی کی تاریخ (Naval Blockades): امریکہ ماضی میں کیوبا اور عراق کی تاریخی معاشی و بحری ناکہ بندیاں کر چکا ہے، جس سے ان ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی تھی۔ ایران کی ناکہ بندی کا مطلب خلیج فارس کا مکمل گھیراؤ ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کو روک سکتا ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے: امریکہ کے پاس مشرقِ وسطیٰ (قطر، بحرین، کویت) میں بڑے فوجی اڈے موجود ہیں، لیکن ایران پر ایک بڑے حملے کے لیے اسے یورپ میں موجود نیٹو اڈوں (جیسے اٹلی یا جرمنی) کی لاجسٹک سپورٹ کی شدید ضرورت پڑتی ہے۔
تبصرہ: امریکی وزیرِ دفاع کا یہ جارحانہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب تہران کو کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اگر ایران نے اپنے دفاعی رویے میں لچک نہ دکھائی، تو مشرقِ وسطیٰ کا یہ ابلتا ہوا لاوا کسی بھی وقت ایک ہولناک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment