جنگ کا خطرہ! امریکہ کی ایران پر دوبارہ حملے اور سخت ترین ناکہ بندی کی دھمکی

US Defense Secretary Pete Hegseth speaking in Brussels regarding military action and blockade against Iran
واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری کشیدگی اب ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) نے برسلز میں نیٹو (NATO) وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صاف الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے گزشتہ روز طے پانے والے مبینہ معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے نہ کیے، تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دے گا اور اس کی بحری ناکہ بندی (Blockade) کر دی جائے گی۔

"آئرن کلیڈ ناکہ بندی" اور ٹرمپ کا اگلا پلان: تجزیہ

امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران نے وقت کی پابندی نہ کی اور لیت و لعل سے کام لیا، تو امریکہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہیگستھ کے الفاظ میں، "اگر ایران نے تعمیل نہ کی، تو ہم اس کی ایسی سخت ناکہ بندی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جسے توڑنا ناممکن ہو گا"۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کو مکمل طور پر سیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پڑے گا اور یہ بزنس کی دنیا کے لیے ایک بڑا زلزلہ ہو گا۔

نیٹو اتحادیوں پر غصہ: "یورپ کا یہ رویہ شرمناک ہے"

اس اسٹوری کا سب سے سنسنی خیز پہلو پیٹ ہیگستھ کا اپنے ہی اتحادیوں یعنی نیٹو ممالک پر شدید غصہ ہے۔ انہوں نے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے نسلوں سے یورپ کا دفاع کیا ہے، لیکن جب مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی طیاروں کو یورپی اڈوں اور بندرگاہوں کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑی، تو ان اتحادیوں نے صاف انکار کر دیا یا پھر وہ ہمیں پیچیدہ قانونی بحثوں میں الجھانے لگے۔ انہوں نے یورپی ممالک کے اس رویے کو "شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔

امریکہ، ایران اور نیٹو کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

اس نئی دھمکی اور نیٹو کے مابین دراڑ کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ریکارڈز پر نظر ڈالنا ضروری ہے:

  • نیٹو کا دباؤ (NATO Rift): یہ پہلی بار نہیں ہے کہ یورپی ممالک نے ایران پر حملے کے لیے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہو۔ 2018 میں جب ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدہ (JCPOA) یکطرفہ طور پر ختم کیا تھا، تب بھی جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے امریکی فیصلے کی مخالفت کی تھی اور ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے طریقے ڈھونڈے تھے۔
  • بحری ناکہ بندی کی تاریخ (Naval Blockades): امریکہ ماضی میں کیوبا اور عراق کی تاریخی معاشی و بحری ناکہ بندیاں کر چکا ہے، جس سے ان ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی تھی۔ ایران کی ناکہ بندی کا مطلب خلیج فارس کا مکمل گھیراؤ ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کو روک سکتا ہے۔
  • مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے: امریکہ کے پاس مشرقِ وسطیٰ (قطر، بحرین، کویت) میں بڑے فوجی اڈے موجود ہیں، لیکن ایران پر ایک بڑے حملے کے لیے اسے یورپ میں موجود نیٹو اڈوں (جیسے اٹلی یا جرمنی) کی لاجسٹک سپورٹ کی شدید ضرورت پڑتی ہے۔

تبصرہ: امریکی وزیرِ دفاع کا یہ جارحانہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب تہران کو کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اگر ایران نے اپنے دفاعی رویے میں لچک نہ دکھائی، تو مشرقِ وسطیٰ کا یہ ابلتا ہوا لاوا کسی بھی وقت ایک ہولناک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

US Threats Action: Hegseth Warns of Military Strike and Ironclad Blockade Against Iran


BRUSSELS: US Defence Secretary Pete Hegseth has warned that the United States is fully prepared to restart military action and reimpose a crushing naval blockade against Iran if Tehran fails to fulfill its commitments under the newly signed agreement.

Hegseth Slams NATO Allies Over Lack of Support

Speaking after a meeting with NATO defence ministers in Brussels, Hegseth openly criticized European allies for denying US jets and ships access to European bases and ports for Middle East operations. Terming their hesitation as "shameful," the Pentagon chief stated that Europe's reluctance over arcane legal debates has put the lives of American service members at risk, exposing deep strategic rifts within the alliance over Iran policy.

Comments