بلاول علیم رابطہ: اہم عہدوں پر بھاری اکثریت کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے عبدالعلیم خان سے گفتگو کے دوران گلگت بلتستان میں وزیرِ اعلیٰ، اسپیکر اور دیگر اہم آئینی عہدوں کے لیے آئی پی پی سے حمایت مانگی۔ صدر آئی پی پی علیم خان نے اس بات چیت کو انتہائی مثبت اور خوشگوار قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ استحکامِ پاکستان پارٹی گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں تمام اہم ترین عہدوں پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروانے کے لیے اپنا پورا سیاسی وزن استعمال کرے گی۔
تبصرہ و تجزیہ: وفاق کا اثر اور جی بی کی سیاسی مجبوریاں
گلگت بلتستان کی سیاست کا ایک مروجہ اصول رہا ہے کہ وہاں عام طور پر وہی پارٹی حکومت بناتی ہے جو اسلام آباد (وفاق) میں برسرِ اقتدار ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور آئی پی پی کا یہ نیا اتحاد اسی سلسلے کی کڑی نظر آتا ہے، جہاں وفاق میں موجود سیاسی ہم آہنگی کو اب گلگت بلتستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ علیم خان کی شمولیت سے پیپلز پارٹی کو مطلوبہ اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں آسانی رہے گی، لیکن اصل چیلنج خطے کے عوام کو گورننس اور معاشی استحکام فراہم کرنا ہوگا، جو طویل عرصے سے بنیادی آئینی حقوق کے منتظر ہیں۔
گلگت بلتستان کی سیاست کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
خطے میں حکومت سازی اور سیاسی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ماضی کا یہ ریکارڈ انتہائی اہم ہے:
- وفاق کے ساتھ ہم آہنگی: 2009 میں جب وفاق میں پی پی پی تھی تو جی بی میں سید مہدی شاہ وزیر اعلیٰ بنے۔ 2015 میں ن لیگ کے دور میں حافظ حفیظ الرحمان اور 2020 میں تحریکِ انصاف کے دور میں خالد خورشید نے حکومت بنائی۔
- آئینی حیثیت کا مسئلہ: گلگت بلتستان پاکستان کا ایک انتہائی اسٹریٹیجک علاقہ ہے جو سی پیک (CPEC) کا گیٹ وے ہے۔ یہاں کے عوام طویل عرصے سے پاکستان کے پانچویں صوبے کی حیثیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس پر تمام سیاسی جماعتیں اب تک صرف یقین دہانیاں کراتی آئی ہیں۔
- سیاسی جوڑ توڑ کی تاریخ: جی بی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے اکثر آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں (جیسے اب آئی پی پی) کا کردار کلیدی ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں واضح اکثریت حاصل کرنا کسی بھی ایک جماعت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
پیپلز پارٹی اور آئی پی پی کا یہ گٹھ جوڑ گلگت بلتستان میں اقتدار کا ہما کس کے سر پر بٹھاتا ہے، اس کا فیصلہ تو وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے

Comments
Post a Comment