سپریم کورٹ کا کمرۂ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا؛ چرس کے استعمال پر جج کا اینٹی نارکوٹکس اہلکار کو دلچسپ جواب
سپریم کورٹ آف پاکستان میں منشیات کے ایک کیس کی سماعت کے دوران اس وقت انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب معزز جج کے ریمارکس اور انٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کے اہلکار کے جواب پر پورا کمرۂ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ عدالتِ عظمیٰ میں منشیات برآمدگی کیس کی باقاعدہ کارروائی جاری تھی کہ اے این ایف حکام کی جانب سے پیش کیے گئے موقف پر جج نے ایسا جملہ کسا جس نے سنجیدہ ماحول کو یکسر خوشگوار بنا دیا۔
کمرۂ عدالت میں کیا ہوا؟
دورانِ سماعت چرس کی مقدار اور اس کے اثرات کے حوالے سے قانونی بحث چھڑی۔ اے این ایف کے نمائندے نے ملزم سے برآمد ہونے والی چرس کے حوالے سے عدالت کو بریفنگ دینے کی کوشش کی، جس پر معزز جج نے چرس کے عام استعمال اور اس کی عادت پر ایک انتہائی جملہِ معترضہ اور چٹکلا چھوڑا۔ جج کے اس برجستہ اور طنز و مزاح سے بھرپور تبصرے پر وہاں موجود وکلاء، عدالتی عملہ اور سائلین اپنی ہنسی نہ روک سکے اور پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اکثر منشیات کے کیسز میں تفتیشی اداروں کی ناقص کارروائی اور شواہد کی کمزوری پر عدالتیں سخت برہمی کا اظہار کرتی ہیں، تاہم اس مخصوص کیس میں جج صاحب نے غصہ دکھانے کے بجائے معاملے کو مزاحیہ رنگ دے کر نمٹایا۔
کیس کا پس منظر اور قانونی نکتہ
عدالت میں زیرِ بحث کیس منشیات کی برآمدگی سے متعلق تھا، جہاں اے این ایف نے ملزم کے خلاف چرس کی اسمگلنگ کا مقدمہ قائم کر رکھا تھا۔
- اہلکار کا موقف: اے این ایف اہلکار نے عدالت کے سامنے ملزم کی جانب سے چرس کے مسلسل استعمال اور قبضے سے متعلق اپنا روایتی جواب داخل کیا۔
- عدالتی ریمارکس: جج نے تفتیش کے روایتی انداز پر طنز کرتے ہوئے ریمارکس دیے جس نے سب کو ہنسنے پر مجبور کر دیا۔
- سماعت کا احوال: اس خوشگوار موڑ کے بعد عدالت نے متعلقہ حکام کو کیس کا ریکارڈ مزید بہتر انداز میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کو آگے بڑھا دیا۔
عدالتِ عظمیٰ میں طویل عرصے بعد کسی کیس کے دوران ایسا غیر رسمی اور مزاحیہ منظر دیکھنے کو ملا، جس کی ویڈیو اور تفصیلات سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

Comments
Post a Comment