سفارتی آداب بمقابلہ ذاتی تشہیر: خودمختار مؤقف
اطالوی وزیر اعظم نے اس معاملے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی تعلقات باہمی احترام اور سفارتی آداب پر قائم ہوتے ہیں، نہ کہ کسی کی ذاتی تشہیر پر۔ انہوں نے واشنگٹن کو یاد دلایا کہ اٹلی اور امریکہ کے تعلقات دو آزاد اور خودمختار ممالک کے قومی مفادات پر مبنی ہیں اور انہیں شخصیات کے سستی شہرت حاصل کرنے کے ہتھکنڈوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پر میلونی کے اس جرات مندانہ جواب کو سراہا جا رہا ہے اور اسے اٹلی کا ایک مضبوط اور خودمختار مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے عالمی رہنماؤں پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اس طرح کی "پاور پلے" اور بیانات کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ لیکن یورپ کی سب سے طاقتور خواتین میں شمار ہونے والی جیورجیا میلونی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی سپر پاور کے سامنے جھکنے یا دبنے والی نہیں ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب یورپ اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ اور عالمی معیشت جیسے حساس مسائل پر پہلے ہی سفارتی رابطے جاری ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: 'فوٹو ڈپلومیسی' اور ٹرمپ کا پرانا ہتھکنڈہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ان کی اسی پرانی "آرٹ آف دی ڈیل" حکمتِ عملی کا حصہ لگتا ہے جہاں وہ اپنے حامیوں کے سامنے خود کو دنیا کا سب سے مقبول لیڈر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن سفارت کاری کی زبان میں اسے "فوٹو آپ ڈپلومیسی" (Photo-op Diplomacy) کہا جاتا ہے، جہاں لیڈرز ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرتے ہیں۔ میلونی کا یہ کڑا انکار ظاہر کرتا ہے کہ یورپی قیادت اب ٹرمپ کے اس روایتی دباؤ اور غیر روایتی سفارتی انداز کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
عالمی رہنماؤں کے مابین 'تصویروں کی جنگ' کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے مابین ہینڈ شیک اور تصاویر پر دلچسپ معرکے ہو چکے ہیں جو اس اسٹوری کا اہم پسِ منظر ہیں:
- اینجلا مرکل اور ٹرمپ (2017): اپنے پہلے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کے اندر جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے جب ٹرمپ سے ہاتھ ملانے کی درخواست کی تو ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ان کی طرف دیکھا تک نہیں اور ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا، جس پر پوری دنیا میں تھو تھو ہوئی تھی۔
- ایمانوئل میکرون کا 'ٹائٹ ہینڈ شیک' (2017): فرانسیسی صدر میکرون نے ٹرمپ کے روایتی جارحانہ انداز کا جواب دینے کے لیے ان کا ہاتھ اتنی زور سے جھٹکا تھا کہ ٹرمپ کی انگلیاں سفید پڑ گئی تھیں، جسے میڈیا نے 'سیاسی طاقت کا مظاہرہ' کہا تھا۔
- جیورجیا میلونی کا ماضی کا ریکارڈ: میلونی اپنی سخت گیر خارجہ پالیسی اور اطالوی قوم پرستی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ یورپی یونین کے بڑے بڑے فورمز پر بھی اپنے ملک کے مفاد کے لیے فرانس اور جرمنی جیسے بڑے ممالک سے ٹکرا چکی ہیں۔
امریکی صدر کے دعوے اور روما (Rome) کی طرف سے آنے والے اس کرارے جواب نے مغربی اتحاد کے اندر چھپی خلیج کو واضح کر دیا ہے۔ یہ دیکھنا اب دلچسپ ہوگا کہ کیا ہمیشہ آخری وار کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اس پر خاموش رہتے ہیں یا اپنے روایتی انداز میں میلونی پر کوئی نیا سوشل میڈیا اٹیک کرتے ہیں۔

Comments
Post a Comment