کوئٹہ میں نوجوان خاتون ڈاکٹر پر تیزاب کا حملہ؛ ڈاکٹر ماہنور کی ہمت اور لگن نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا

Social media solidarity graphic for Dr Mahnoor who faced a tragic acid attack in Quetta hospital

پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور کام کی جگہوں پر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ایک اسپتال میں دورانِ ڈیوٹی نوجوان خاتون معالج ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب پھینکنے کا انتہائی ہولناک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈاکٹر ماہنور پر مبینہ طور پر اسی ادارے کے ایک ملازم نے حملہ کیا، جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اعلیٰ علاج کے لیے کراچی منتقلی اور صحت کی صورتحال

وحشیانہ حملے کے بعد ڈاکٹر ماہنور کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں انہیں فضائی راستے سے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں جلے ہوئے مریضوں کے خصوصی وارڈ میں پریمیم طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق، تیزاب کے اس حملے سے ان کے جسم کا 50 فیصد سے زائد حصہ متاثر ہوا ہے، جس کے باعث ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ کراچی کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی جان بچانے اور زخموں کے علاج کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے منظرِ عام پر آتے ہی صارفین نے ڈاکٹر ماہنور کی پرانی پوسٹس، ان کے معالجاتی سفر اور انسانیت کی خدمت کے لیے ان کے جذبوں کو شیئر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے ساتھیوں اور دوستوں کا کہنا ہے کہ ماہنور ایک انتہائی باصلاحیت اور محنتی ڈاکٹر ہیں جو ہمیشہ مریضوں کی دیکھ بھال میں پیش پیش رہتی تھیں۔ ان کے عزم اور موجودہ حالات میں دکھائی جانے والی ہمت نے پوری پاکستانی قوم کو متاثر کیا ہے۔

کام کی جگہوں پر خواتین کا تحفظ اور عوامی مطالبات

انسانی حقوق کے علمبرداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس واقعے کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور درج ذیل مطالبات کیے جا رہے ہیں:

  • ملزم کو عبرتناک سزا: عوام اور طبی برادری کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال کے ملوث ملازم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت ترین اور عبرتناک سزا دی جائے۔
  • کام کی جگہوں پر تحفظ: اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہسپتالوں اور دیگر سرکاری و نجی اداروں میں خواتین کے لیے فول پروف سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
  • ملک گیر دعائیں: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈاکٹر ماہنور کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے اور پوری قوم اس مشکل وقت میں ان کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔

ڈاکٹر ماہنور پر ہونے والا یہ بزدلانہ حملہ معاشرے کے لیے ایک تازیانہ ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے اور تیزاب گردی جیسے گھناؤنے جرائم کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Nation Stands With Dr Mahnoor: Quetta Acid Attack Victim Inspires Pakistan With Courage


QUETTA: Pakistan is once again grappling with deep concerns over women's safety and workplace security following a horrifying acid attack on a young female doctor, Dr. Mahnoor, inside a hospital in Quetta. She was allegedly targeted by an employee of the same institution while performing her professional duties.

Airlifted to Karachi for Intensive Care

Due to the severity of her injuries, which have reportedly affected over 50 percent of her body, Dr. Mahnoor was airlifted to Karachi for advanced and specialized medical treatment. Her condition remains critical as a dedicated medical team monitors her recovery progress.

Demands for Workplace Safety and Justice

The shocking incident has ignited widespread public outrage online. Citizens, medical professionals, and human rights advocates are demanding swift justice, strict punishment for the culprit, and stronger protective policies to ensure women feel entirely safe while pursuing their careers in Pakistan.

Comments