"اہلیہ بھارت سے، اہم ترین دوست پاکستان سے" — جے ڈی وینس کا دلچسپ جملہ
مذاکرات کے آغاز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ لیکن پریس کانفرنس کا سب سے دلچسب اور انسانی پہلو وہ تھا جب جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے مسکرا کر کہا: "میری زندگی کے دو اہم ترین لوگ پاکستان اور بھارت میں ہیں۔ بھارت سے میری اہلیہ ہیں اور پاکستان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔ پچھلے تین مہینوں میں جتنی بات میں نے عاصم منیر سے کی ہے، شاید ہی کسی اور سے کی ہو۔ وہ فوجی کمانڈر ہیں لیکن انہوں نے کمال کا سفارتی کردار ادا کیا ہے۔"
تبصرہ و تجزیہ: واشنگٹن اور تہران کے مابین پاکستان کا پُل
یہ مذاکرات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں صرف ایک عسکری طاقت نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی پُل (Diplomatic Bridge) بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نائب صدر اور داماد جیرڈ کشنر کو اس مشن پر بھیجنا ظاہر کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس ڈیل کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔ پاکستان اور قطر نے مل کر مشرقِ وسطیٰ کو ایک بہت بڑی جنگ سے بچانے اور عالمی معیشت کی شہ رگ "آبنائے ہرمز" کو دوبارہ بحال کرانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے، وہ عالمی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
پاکستان کی ثالثی اور پاک-امریکہ سفارت کاری کا ریکارڈ (Evergreen Context):
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ہسٹری میں عالمی طاقتوں کو ایک میز پر لانے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، ماضی کا یہ ریکارڈ ہمارے اس مضبوط کردار کی گواہی دیتا ہے:
- امریکہ اور چین کی تاریخی ڈیل (1971): پاکستان نے ہی وہ تاریخی کردار ادا کیا تھا جب 1971 میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کو خفیہ طور پر اسلام آباد کے راستے بیجنگ پہنچایا گیا، جس سے امریکہ اور چین کے تعلقات کا آغاز ہوا۔
- امریکہ-طالبان دوحہ مذاکرات: افغان جنگ کے خاتمے اور قطر میں ہونے والے امن معاہدے کے لیے پاکستان نے واشنگٹن اور افغان طالبان کو ایک میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
- ایران میں پاکستان کا سفارتی کردار: امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے، واشنگٹن میں موجود پاکستانی سفارت خانہ ہی دہائیوں سے ایران کے "حفاظتی پاور" (Protecting Power) کے طور پر کام کر رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے اس ہال سے نکلنے والا نتیجہ چاہے جو بھی ہو، لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی اس مشترکہ سفارتی کوشش نے عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا راستہ کھول پائیں گے؟

Comments
Post a Comment