واشنگٹن: خطے میں بڑھتی ہوئی دفاعی کھینچا تانی اور شمالی کوریا کی جانب سے بڑھتے ہوئے جوہری خطرات کے پیشِ نظر امریکہ اور جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام کے مابین واشنگٹن میں اہم ترین سیکیورٹی مذاکرات منعقد ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے دفاعی اور جوہری تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کا مقصد جزیرہ نما کوریا میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔
ایٹمی ڈیٹرنس اور واشنگٹن ڈیکلریشن پر پیش رفت
ان سیکیورٹی مذاکرات کے دوران امریکی اور جنوبی کوریائی حکام نے دونوں ممالک کے مابین ہونے والے تاریخی "واشنگٹن ڈیکلریشن" کے تحت قائم کردہ نیوکلیئر کنسلٹیٹو گروپ (NCG) کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ امریکی حکام نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادی جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر روایتی اور جوہری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔
مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ شمالی کوریا کے میزائل پروگرامز اور جوہری تجربات کے جواب میں دونوں ممالک اپنی مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار مزید وسیع کریں گے اور سیکیورٹی انٹیلی جنس کا تبادلہ تیز کیا جائے گا تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
مذاکرات کے اہم سیکیورٹی اہداف
مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم ملاقات میں چند اہم فوجی اور سفارتی اہداف کا تعین کیا گیا ہے:
- جوہری اثاثوں کی مانیٹرنگ: خطے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی جوہری اثاثوں اور اسٹریٹجک تعیناتیوں کی لائیو مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن کو مزید تیز کیا جائے گا۔
- ٹیکنالوجی اور دفاعی شراکت داری: دونوں ممالک نے سیمی کنڈکٹرز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید ترین ملٹری ہارڈویئر کی تیاری میں مشترکہ سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
- علاقائی استحکام: جنوبی کوریا نے امریکی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے سب سے مضبوط ستون ہے۔
ماہرین کے مطابق، ان مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا اب شمالی کوریا اور اس کے اتحادیوں کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں اور آنے والے دنوں میں اسٹریٹجک دفاعی پوزیشنز مزید سخت کی جائیں گی۔
⬇️ Click to Read this Article in English
US, South Korea Enhance Nuclear Cooperation in Strategic Security Talks
WASHINGTON: Senior officials from the United States and South Korea convened for high-level security talks to deepen bilateral nuclear deterrence and strategic coordination against growing regional threats. The dialogue focused on strengthening the operational execution of the Washington Declaration and the Nuclear Consultative Group (NCG) framework.
Reinforcing Extended Deterrence Commitments
During the sessions, the US reiterated its ironclad commitment to extended deterrence, assuring Seoul that any nuclear threat from adversaries would be met with an overwhelming, decisive response leveraging the full spectrum of American military capabilities. The two allies mapped out integrated implementation plans to align South Korea's conventional support with US strategic planning during geopolitical crises.
Comprehensive Defense and Tech Integration
The strategic framework also addressed deeper technology and military supply chain integration, emphasizing joint aerospace, artificial intelligence, and advanced surveillance mechanisms. These collaborative efforts aim to establish a seamless security paradigm to ensure stability and maritime safety across the Korean Peninsula.
Comments
Post a Comment