ووٹس کی گنتی اور تقسیم شدہ ملک کا منظرنامہ
کولمبیا کے الیکشن کمیشن کی جانب سے 99 فیصد سے زائد ووٹس کی گنتی مکمل ہونے پر سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، دائیں بازو (Right-wing) کے سخت گیر امیدوار ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے 49.7 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل بائیں بازو (Left-wing) کے امیدوار اور موجودہ صدر گستاو پیٹرو کے قریبی ساتھی، ایوان سیپیڈا (Iván Cepeda) کو 48.7 فیصد ووٹ ملے۔ محض ایک فیصد کے اس معمولی فرق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کولمبیا اس وقت شدید ترین سیاسی اور نظریاتی پولرائزیشن (تفریق) کا شکار ہے۔
شکست خوردہ امیدوار ایوان سیپیڈا نے ابھی تک اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی گنتی ہے اور جب تک سرکاری اور حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہو جاتا، وہ اس فتح کو تسلیم نہیں کریں گے۔ دوسری طرف، موجودہ بائیں بازو کے صدر گستاو پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ پولنگ اسٹیشنز کا سافٹ ویئر ہیک یا تبدیل کیا گیا تھا، اس لیے وہ الیکشن کا باقاعدہ آڈٹ کروانے کا مطالبہ کریں گے۔ تاہم، رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ووٹوں کی تصدیق کا عمل پہلے مرحلے کی طرح ہی شفاف رہا ہے اور اس میں کسی بڑے ہیر پھیر کے شواہد نہیں ملے۔
کون ہے ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا؟ عرف "ال ٹائیگر"
ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کولمبیا کے روایتی سیاستدانوں کی طرح نہیں ہیں۔ وہ ایک ہائی پروفائل وکیل، فیشن آئیکن اور کامیاب کاروباری شخصیت ہیں جن کا اس سے پہلے کوئی سیاسی تجربہ نہیں رہا۔ کولمبیا کے کیریبین ساحلی علاقے بیرنکوئیلا (Barranquilla) سے تعلق رکھنے والے ایسپریلا نے الیکشن مہم کے دوران خود کو "ال ٹائیگر" (The Tiger) کا نام دیا اور عوام میں وہ اسی نام سے مقبول ہوئے۔
ایک وکیل کے طور پر ان کا ماضی کافی متنازع رہا ہے۔ انہوں نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کے قریبی ساتھی الیکس صاب (جن پر امریکہ میں منی لانڈرنگ کے مقدمات ہیں) اور کولمبیا کے سب سے بڑے فراڈ اسکیم کے ماسٹر مائنڈ ڈیوڈ مرسیا گزمین کے کیسز لڑے۔ تنقید کے جواب میں ایسپریلا کا ہمیشہ ایک ہی مؤقف رہا ہے کہ ایک دفاعی وکیل (Defense Lawyer) کے طور پر ہر کسی کو قانونی امداد دینا ان کا پیشہ ورانہ فرض تھا۔ سوشل میڈیا اور عوامی جلسوں میں وہ بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے کھڑے ہو کر ملٹری اسٹائل میں سلام کرتے ہیں اور ان کا ہیر اسٹائل اور داڑھی کا لک ایل سلواڈور کے مشہور صدر نیب بوکیلے (Nayib Bukele) سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔
ڈرگ کارٹلز کے خلاف آہنی ہاتھوں کا عزم اور جنگل جیلیں
کولمبیا پچھلے کئی دہائیوں سے داخلی مسلح تصادم، مافیا وار اور منشیات کی اسمگلنگ کا گڑھ رہا ہے۔ موجودہ صدر گستاو پیٹرو کی "ٹوٹل پیس" (مکمل امن) کی پالیسی کے تحت گوریلا گروپس کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے تھے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نرمی کا فائدہ اٹھا کر نان اسٹیٹ ایکٹرز اور کارٹلز نے اپنے علاقے دگنے کر لیے اور ملک میں کوکین کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
نو منتخب صدر "ال ٹائیگر" نے اعلان کیا ہے کہ وہ گوریلا گروپس (جیسے FARC کے منحرفین اور ELN) اور بدنامِ زمانہ ڈرگ کارٹل "کلین ڈیل گولفو" کے ساتھ تمام مذاکرات فوری طور پر منقطع کر دیں گے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ کولمبیا کے گھنے جنگلات کے اندر انتہائی سخت سیکیورٹی والی "میگا پرزنز" (بڑی جیلیں) قائم کریں گے جہاں ان مجرموں کو بند کیا جائے گا۔ انہوں نے ملک کے سیکیورٹی بجٹ کو بڑھانے، صحت کے نظام کو ریفارم کرنے اور ریاستی مشینری کو چھوٹا کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اینڈورسمنٹ اور امریکہ کے ساتھ نیا گٹھ جوڑ
ایسپریلا کی فتح کے پیچھے ایک بہت بڑا ہاتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت (Endorsement) کا ہے۔ ایسپریلا خود 2023 سے امریکہ کے شہری ہیں اور انہوں نے طویل عرصہ میامی میں گزارا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ 'ٹروتھ سوشل' پر ایسپریلا کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "He Won, BIG!" (وہ ایک بڑی جیت جیت گیا!)۔ الیکشن سے پہلے ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ ایسپریلا کی حکومت کو امریکہ کی مکمل فوجی اور سیاسی طاقت کی پشت پناہی حاصل ہوگی تاکہ وہ لاطینی امریکہ میں لا اینڈ آرڈر بحال کر سکیں۔
کولمبیا تاریخی طور پر خطے میں امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں صدر پیٹرو اور امریکی حکومت کے مابین امیگریشن، تجارتی ٹیرف اور امریکی فوجی مداخلت پر شدید تلخی رہی ہے۔ اب ایسپریلا کے آنے سے پاکٹ میں دوبارہ واشنگٹن کا کنٹرول مضبوط ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
کولمبیا کی 60 سالہ خونی تاریخ اور عالمی پسِ منظر (Evergreen Context):
کولمبیا کے اس موجودہ سیاسی بحران اور تبدیلی کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی پسِ منظر جاننا انتہائی ضروری ہے:
- کولمبیا کی داخلی خانہ جنگی (1964 سے تاحال): کولمبیا میں مارکسسٹ گوریلا گروپس (FARC اور ELN) اور حکومتی افواج کے مابین پچھلے 60 سال سے جنگ جاری ہے جس میں اب تک 4 لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور کروڑوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
- پلین کولمبیا (Plan Colombia - 2000): امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں شروع ہونے والا یہ ایک اربوں ڈالرز کا فوجی معاہدہ تھا جس کا مقصد کولمبیا کی فوج کو ماڈرن بنانا اور کوکین کے کھیتوں کو تباہ کرنا تھا، لیکن یہ کارٹلز کا مکمل خاتمہ کرنے میں ناکام رہا۔
- لاطینی امریکہ کا دائیں بازو کی طرف جھکاؤ (The Right-Wing Shift): ایسپریلا کی فتح خطے میں ارجنٹائن کے صدر جیویر مائلئی (Javier Milei) اور ایل سلواڈور کے نیب بوکیلے کی کامیابیوں کا تسلسل ہے۔ ارجنٹائن کے صدر مائلئی نے ایسپریلا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ "کولمبیا نے معاشی آزادی اور کارٹلز کے خلاف ڈو مور (Enough Already) کا راستہ چن لیا ہے"۔
جشن، احتجاج اور ممکنہ خانہ جنگی کا خطرہ: زمینی صورتحال
نتائج کا اعلان ہوتے ہی ساحلی شہر بیرنکوئیلا میں لاکھوں حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے کولمبیا کی پیلی فٹبال جرسی پہن رکھی تھی اور ہاتھوں میں جھنڈے تھامے "Make Colombia Great Again" کے ہیٹس پہن کر آتش بازی کا مظاہرہ کیا۔ حامیوں کا کہنا تھا کہ "ہم حکومت کی بیوروکریسی اور روز روز کے قتل عام سے تھک چکے ہیں، اب ٹائیگر ملک کو بدلے گا اور نوکریاں لائے گا"۔
لیکن ملک کا دوسرا حصہ اس جیت پر شدید غم و غصے میں ہے۔ کولمبیا کے تیسرے بڑے شہر "کالی" (Cali) میں رات گئے بائیں بازو کے مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں، جہاں مظاہرین نے امریکی جھنڈے جلائے اور پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ طلبہ رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسپریلا کی ملٹری کریک ڈاؤن کی پالیسی ملک کو دوبارہ سیکیورٹی اسٹیٹ بنا دے گی اور غریبوں کے حقوق پامال ہوں گے۔
تبصرہ و تجزیہ: کولمبیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ الیکشن کے ان نتائج نے جہاں ایک طبقے کو امید دی ہے، وہاں دوسرے طبقے کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں ہوگا کہ وہ جنگل میں جیلیں کیسے بناتے ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ وہ اس شدید تقسیم شدہ ملک کو ایک نئی خانہ جنگی کی آگ میں جھلسنے سے کیسے بچاتے ہیں۔

Comments
Post a Comment