اسرائیلی وزیر کا شرمناک حکم؛ حزب اللہ پر دباؤ کے لیے لبنانی خواتین اور نوجوانوں کو اغوا کرنے کا مطالبہ

Israeli National Security Minister Itamar Ben-Gvir who demanded the detention of Lebanese women and youth
اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی فوج کو انتہائی متنازع حکم دے دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ایتمار بن گویر نے تجویز دی ہے کہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے جنوبی لبنان کی معصوم خواتین اور نوجوانوں کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کیا جائے۔ اس بھیانک بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

"خواتین اور بچوں کو پکڑ کر اسرائیلی جیلوں میں ڈالو"

انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف اب روایتی عسکری حکمت عملی سے ہٹ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کھل کر مطالبہ کیا کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے گھروں میں گھس کر ان کی خواتین اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا جائے، کیونکہ اس اقدام سے حزب اللہ پر نفسیاتی اور سماجی طور پر شدید دباؤ پڑے گا۔

اسرائیل اس وقت بھی اپنے ایک کالے قانون کے تحت سینکڑوں بے گناہ افراد کو بغیر کسی مقدمے کے قید کیے ہوئے ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل اپنے غیر قانونی ’’جنگی قانون‘‘ (Unlawful Combatants Law) کے تحت ایسے افراد کو بھی سالہا سال حراست میں رکھ سکتا ہے جن پر کوئی باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہوتی۔ یہ قانون اصل میں 2002 میں بنایا گیا تھا جس کا مقصد نام نہاد قومی سلامتی کی آڑ میں انسانی حقوق کو پامال کرنا ہے۔

عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی ردِعمل

انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اسرائیلی وزیر کے اس بیان کو جنگی جرائم کی ترغیب قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس قانون کی اصل صورتحال درج ذیل ہے:

  • لبنانی اور شامی قیدی: اس وقت اسرائیل کی مختلف جیلوں میں اس کالے قانون کے تحت بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ کئی لبنانی اور شامی شہری بھی قید ہیں۔
  • بین الاقوامی قوانین سے تصادم: انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی مقدمے، وکیل کی رسائی اور فردِ جرم کے طویل حراست بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
  • لبنان کا موقف: اس انتہائی اشتعال انگیز اور غیر انسانی بیان پر تاحال حزب اللہ یا لبنان کی حکومت کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسرائیلی وزیر کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ تل ابیب انتظامیہ جنگ جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک گرنے اور شہری آبادی کو ڈھال بنانے پر تلی ہوئی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Israel's Ben-Gvir Urges Army to Detain Lebanese Women and Youth to Pressure Hezbollah


TEL AVIV: Israel’s far-right National Security Minister Itamar Ben-Gvir has sparked international outrage by proposing that the Israeli military should detain Lebanese women and youths to exert pressure on Hezbollah. Speaking during an Israeli security cabinet meeting, Ben-Gvir suggested shifting away from traditional military tactics to targeting the social and familial support systems of Hezbollah members.

Controversial Detention Under Unlawful Combatants Law

Ben-Gvir explicitly demanded that during operations in southern Lebanon, forces should arrest civilians from their homes and transfer them to Israeli prisons. Rights groups note that Israel frequently uses its controversial 2002 "Unlawful Combatants Law" to hold individuals indefinitely without formal charges or trial. Currently, several Lebanese and Syrian nationals are being held alongside Palestinians under this framework.

Violation of International Law

Human rights organizations have heavily condemned the statement, reiterating that detaining civilians without trial directly violates international humanitarian laws. No official response has been issued by Hezbollah or the Lebanese government regarding the provocative comments yet.

Comments