پاکستانی قیادت کی تعریف اور "کشن گنگا" جیسی ہم آہنگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک غیر معمولی انسان ہیں، جن کا اپنے وزیراعظم کے ساتھ تال میل اور احترام کا رشتہ بے حد مضبوط ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، چونکہ پاکستانی قوم ایرانیوں کی نفسیات اور ان کے کلچر کو بہت اچھی طرح جانتی ہے، اس لیے پاکستان نے ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بہترین سفارتی پتے کھیلے۔ اس مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر اور ایرانی ہم منصب سمیت ثالثِ اعظم پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اپنے دارالحکومتوں میں بیٹھ کر دستخط کیے، جس کے بعد دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی فوجی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے قبل امریکی فوج نے محض ایک ہفتے کے اندر ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ریڈار سسٹم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا، جس نے ایران کو میز پر آنے پر مجبور کیا۔ تاہم، اب اس امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول اور تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی واقع ہو رہی ہے، جس سے عالمی معیشت کو بڑا ریلیف ملے گا۔
شی جن پنگ سے پرائیویٹ بات چیت اور چین کا معاہدے سے دوری کا سچ
اس اسٹوری کا ایک اور سنسنی خیز اور ایورگرین پہلو چین کا اس پورے تنازع سے دور رہنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر چینی صدر شی جن پنگ سے بات کی تھی اور ان سے درخواست کی تھی کہ آبنائے ہرمز سے اپنی توانائی اور تیل کی ترسیل کا بڑا انحصار ہونے کے باوجود چین اس تنازع میں مداخلت نہ کرے۔ چینی صدر نے اس پر اتفاق کیا، جس پر ٹرمپ نے بیجنگ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اسی سال (2026 میں) ترکی اور چین کا ایک بڑا سرکاری دورہ بھی کرنے جا رہے ہیں، جبکہ چینی صدر ستمبر میں واشنگٹن آئیں گے۔
تاریخی پسِ منظر اور سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
امریکہ، ایران اور پاکستان کے اس مثلث (Triangle) کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ترین موڑ پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- 2015 کا ناکام جوہری معاہدہ (JCPOA): باراک اوباما کے دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، ٹرمپ نے اسے شروع ہی سے "تباہی" اور تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دے کر 2018 میں یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔
- پاکستان کا روایتی برادرانہ کردار: پاکستان ہمیشہ سے ایران اور سعودی عرب، اور ایران و امریکہ کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستانی وزرائے اعظم نے تہران اور واشنگٹن کے دورے کر کے جنگ کے بادل چھانٹنے کی کوششیں کی تھیں۔
- آبنائے ہرمز اور معاشی جنگ: عالمی منڈی کا 20 فیصد تیل اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ جب بھی یہاں جنگی صورتحال بنتی ہے، پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی بزنس کے لیے ایک نئی زندگی کی مانند ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: پاکستان کی اسٹریٹیجک خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک بہت بڑی تاریخی فتح ہے۔ سپر پاور امریکہ کے صدر کی جانب سے پاکستانی فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی یہ علانیہ تعریف ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں امن قائم کرنے کی وہ واحد چابی ہے جس کے بغیر عالمی سیاست کا کوئی بھی تالا نہیں کھل سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کو مستقل امن کی طرف لے جاتا ہے یا یہ ٹرمپ کی الیکشن مہم کا عارضی ہتھکنڈہ ہے۔

Comments
Post a Comment