28 اراکین کی بھاری حمایت اور جماعتی پوزیشن کا جوڑ توڑ
سبکدوش ہونے والے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں امجد حسین ایڈووکیٹ کو 33 رکنی ایوان میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی (IPP) کے کم از کم 28 اراکین کی بھاری حمایت حاصل ہوئی۔ 33 رکنی اسمبلی میں 24 جنرل، 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک 21 جنرل نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے جبکہ دیامر اور اسکردو کی 3 نشستوں کے نتائج قانونی پیچیدگیوں کے باعث تاحال روکے ہوئے ہیں۔
ایوان کی موجودہ صورتحال کے مطابق پیپلز پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، جس کے بعد مسلم لیگ ن کی 9 اور آئی پی پی کی 6 نشستیں ہیں۔ اپوزیشن بنچوں پر مجلس وحدت المسلمین (MWM) اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی صرف ایک ایک نشست موجود ہے۔ یہ بھاری اکثریت اس بات کا ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان میں اب ایک مضبوط مخلوط حکومت قائم ہونے جا رہی ہے جس سے خطے میں سیاسی استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: مرکز اور جی بی کا سیاسی تال میل
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہاں عام طور پر اسی جماعت کی حکومت بنتی ہے جو وفاق (اسلام آباد) میں برسرِاقتدار ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد وفاقی حکومت کا ہی عکس ہے۔ امجد حسین ایڈووکیٹ کے بلامقابلہ انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ تمام سیاسی مہروں کو بڑی خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کا ہنگامہ یا جوڑ توڑ سینما اسکرین پر نظر نہ آئے۔ اب سب سے بڑا چیلنج جی بی کے آئینی حقوق، گندم سبسڈیز کے مسائل اور سیاحت کو فروغ دینا ہوگا۔
گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
خطے کے سیاسی سفر اور اب تک کے وزرائے اعلیٰ کے ریکارڈ پر ایک نظر، جو اس کہانی کے پسِ منظر کو مکمل کرتی ہے:
- سید مہدی شاہ (2009-2014): گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبائی طرز کا سیٹ اپ ملنے کے بعد پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ خطے کے پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے۔
- حافظ حفیظ الرحمان (2015-2020): وفاق میں ن لیگ کی حکومت کے دوران حافظ حفیظ الرحمان نے جی بی کے دوسرے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا اور ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے۔
- خالد خورشید اور حاجی گلبر خان (2020 سے اب تک): پی ٹی آئی کے دور میں خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے، جن کی نااہلی کے بعد حاجی گلبر خان نے فارورڈ بلاک کی مدد سے حکومت سنبھالی۔ اب امجد حسین ایڈووکیٹ اس باوقار منصب پر فائز ہونے والے نئے سیاسی چہرہ ہیں۔
امجد حسین ایڈووکیٹ کے سامنے اب کانٹوں کا بستر ہے۔ جہاں انہیں ن لیگ اور آئی پی پی جیسی اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے، وہیں گلگت بلتستان کے دیرینہ عوامی مسائل کو حل کر کے خود کو ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر ثابت کرنا ہوگا۔

Comments
Post a Comment