جی بی میں نیا راج! امجد حسین ایڈوکیٹ بلامقابلہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان منتخب

Amjad Hussain Advocate of PPP celebrating his unopposed election as Chief Minister of Gilgit-Baltistan
گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ نو منتخب اسمبلی کے پہلے ہی تاریخی اجلاس میں جہاں 30 اراکین نے حلف اٹھایا، وہیں پیپلز پارٹی کے عمران ندیم اسپیکر اور مسلم لیگ (ن) کے کفایت اللہ بھی بلامقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔ اس نئی سیاسی صف بندی نے ایوان میں پاور گیم کا نقشہ پوری طرح واضح کر دیا ہے۔

28 اراکین کی بھاری حمایت اور جماعتی پوزیشن کا جوڑ توڑ

سبکدوش ہونے والے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں امجد حسین ایڈووکیٹ کو 33 رکنی ایوان میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی (IPP) کے کم از کم 28 اراکین کی بھاری حمایت حاصل ہوئی۔ 33 رکنی اسمبلی میں 24 جنرل، 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک 21 جنرل نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے جبکہ دیامر اور اسکردو کی 3 نشستوں کے نتائج قانونی پیچیدگیوں کے باعث تاحال روکے ہوئے ہیں۔

ایوان کی موجودہ صورتحال کے مطابق پیپلز پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، جس کے بعد مسلم لیگ ن کی 9 اور آئی پی پی کی 6 نشستیں ہیں۔ اپوزیشن بنچوں پر مجلس وحدت المسلمین (MWM) اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی صرف ایک ایک نشست موجود ہے۔ یہ بھاری اکثریت اس بات کا ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان میں اب ایک مضبوط مخلوط حکومت قائم ہونے جا رہی ہے جس سے خطے میں سیاسی استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: مرکز اور جی بی کا سیاسی تال میل

گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہاں عام طور پر اسی جماعت کی حکومت بنتی ہے جو وفاق (اسلام آباد) میں برسرِاقتدار ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد وفاقی حکومت کا ہی عکس ہے۔ امجد حسین ایڈووکیٹ کے بلامقابلہ انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ تمام سیاسی مہروں کو بڑی خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کا ہنگامہ یا جوڑ توڑ سینما اسکرین پر نظر نہ آئے۔ اب سب سے بڑا چیلنج جی بی کے آئینی حقوق، گندم سبسڈیز کے مسائل اور سیاحت کو فروغ دینا ہوگا۔

گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

خطے کے سیاسی سفر اور اب تک کے وزرائے اعلیٰ کے ریکارڈ پر ایک نظر، جو اس کہانی کے پسِ منظر کو مکمل کرتی ہے:

  • سید مہدی شاہ (2009-2014): گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبائی طرز کا سیٹ اپ ملنے کے بعد پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ خطے کے پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے۔
  • حافظ حفیظ الرحمان (2015-2020): وفاق میں ن لیگ کی حکومت کے دوران حافظ حفیظ الرحمان نے جی بی کے دوسرے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا اور ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے۔
  • خالد خورشید اور حاجی گلبر خان (2020 سے اب تک): پی ٹی آئی کے دور میں خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے، جن کی نااہلی کے بعد حاجی گلبر خان نے فارورڈ بلاک کی مدد سے حکومت سنبھالی۔ اب امجد حسین ایڈووکیٹ اس باوقار منصب پر فائز ہونے والے نئے سیاسی چہرہ ہیں۔

امجد حسین ایڈووکیٹ کے سامنے اب کانٹوں کا بستر ہے۔ جہاں انہیں ن لیگ اور آئی پی پی جیسی اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے، وہیں گلگت بلتستان کے دیرینہ عوامی مسائل کو حل کر کے خود کو ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر ثابت کرنا ہوگا۔


⬇️ Click to Read this Political Story in English

Unopposed Victory: PPP’s Amjad Hussain Advocate Elected Chief Minister of Gilgit-Baltistan


GILGIT: In a major political development, Pakistan Peoples Party (PPP) nominee Amjad Hussain Advocate has been elected Chief Minister of Gilgit-Baltistan unopposed during the inaugural session of the newly formed assembly. Alongside him, PPP’s Imran Nadeem was secured as Speaker, and PML-N’s Kifayatullah was elected Deputy Speaker without any contest.

Party Positions and Assembly Structure

The coalition of PPP, PML-N, and IPP commands a heavy majority of 28 members in the 33-seat house. Currently, 30 members have taken their oaths, as results for three general seats in Diamer and Skardu remain pending due to legal delays. Historically following the federal governance pattern, this newly aligned coalition faces the critical task of bringing economic stability and constitutional growth to the strategically vital region of Gilgit-Baltistan.

Comments