ایرانی صدر کی پاکستان آمد اور اپوزیشن پر کڑی تنقید
وزیرِ اعظم نے ایوان کو بتایا کہ اس تاریخی کامیابی کے فوراً بعد ایرانی صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور معاشی تعاون کو مزید ٹھوس شکل دی جائے گی۔ تاہم، اس اہم ترین قومی موقع پر بھی پارلیمنٹ کا اندرونی ماحول سیاسی محاذ آرائی سے پاک نہ رہ سکا۔ وزیرِ اعظم نے اپوزیشن لیڈر کے اس بیان کو یکسر مسترد کر دیا جس میں موجودہ حکومت کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کا دن ایسے اختلافی معاملات اٹھانے کا نہیں تھا اور اپوزیشن کی باتیں حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔
یہاں بنیادی تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ جب بھی ملک کوئی بڑی عالمی یا سفارتی کامیابی حاصل کرتا ہے، تو اندرونی سیاسی انتشار اس کا رنگ پھیکا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کا خطے میں مصالحت کار (Peace Broker) بن کر ابھرنا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے، لیکن اس کے ثمرات تب ہی مستقل ہو سکتے ہیں جب ملک کے اندر سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل پایا جائے۔
"بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی": 2018 بمقابلہ موجودہ انتخابات
حکومت کی مشروعیت پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کڑا رخ اختیار کیا۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حکومت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، تو سال 2018 کے عام انتخابات کی بھی مکمل تحقیقات کروا لی جائیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 2018 میں جادوگری نہیں ہوئی، بکسے نہیں بھرے گئے اور لوگوں کو پٹے پہنا کر حکومت نہیں بنائی گئی تو وہ حکومت جائز تھی، اور اگر وہ جائز تھی تو موجودہ حکومت بھی اتنی ہی جائز ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تحقیقات کا یہ پنڈورا باکس کھلا، تو بات بہت دور تک جائے گی۔
پاک ایران تعلقات اور ثالثی کا تاریخی پسِ منظر (Evergreen Context):
پاکستان کا امریکہ اور ایران جیسے کٹر حریفوں کے درمیان ثالث بننا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک طویل پسِ منظر ہے:
- ایران سب سے پہلا خیر خواہ (1947): 1947 میں آزادی کے بعد ایران دنیا کا وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو باقاعدہ تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کیے۔
- پاک-امریکہ-ایران تثلیث (1970s): سرد جنگ کے دوران پاکستان اور ایران دونوں امریکی بلاک (CENTO اور RCD) کا حصہ تھے، جس کی وجہ سے اسلام آباد ہمیشہ سے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- علاقائی مصالحت کی کوششیں (2019): ماضی میں بھی جب خلیج میں کشیدگی بڑھی، تو پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوریاں کم کرنے کے لیے اہم سفارتی مشن انجام دیے۔ موجودہ معاہدہ اسی طویل سفارتی مہارت کا تسلسل ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ جنگ بندی مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے امن کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، اور اس کا سہرا پاکستان کے سر سجنا بلاشبہ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔

Comments
Post a Comment