انچیون ایئرپورٹ پر ہائی الرٹ اور سون ہیونگ من کا تنازع
رپورٹس کے مطابق ہیڈ کوچ ہانگ میونگ بو اور ٹیم کی انچیون ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل ہی تقریباً 160 پولیس اہلکاروں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کو ہائی الرٹ پر تعینات کیا گیا۔ اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 25 خصوصی کمانڈوز بھی الرٹ رہے۔ پولیس حکام نے مظاہرین کو سخت وارننگ دی کہ ائیرپورٹ پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی حرکت، ہنگامہ آرائی یا غصے میں کھلاڑیوں پر اشیاء (جیسے ماضی میں انڈے یا ٹافیاں) پھینکنے کی کوشش کی گئی تو فوری گرفتار کر کے کڑی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کوریائی عوام کے اس شدید غصے کی سب سے بڑی وجہ ٹورنامنٹ کا مایوس کن سفر اور کوچ کے چند متنازع فیصلے بنے۔ جنوبی کوریا نے اپنے پہلے میچ میں جمہوریہ چیک کو 1-2 سے ہرا کر شاندار آغاز کیا تھا، لیکن بعد میں میکسیکو اور پھر جنوبی افریقا کے خلاف مسلسل 0-1 سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ خاص طور پر جنوبی افریقا کے خلاف زندگی اور موت کے اہم ترین میچ میں ٹیم کے سب سے بڑے گلوبل اسٹار اور کپتان 'سون ہیونگ من' کو ابتدائی پلیئنگ الیون سے باہر رکھنے کے فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، جسے کوچ کی سنگین حماقت قرار دیا جا رہا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: فٹ بال کا جنون اور کھلاڑیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ
فٹ بال اب صرف ایک کھیل نہیں بلکہ مختلف اقوام کے لیے قومی غیرت اور جذبات کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب کروڑوں ڈالرز کمانے والے اسٹارز اور کوچز توقعات پر پورا نہیں اترتے، تو فینز کا پیار سیکنڈوں میں نفرت میں بدل جاتا ہے۔ کھیل میں ہار جیت ایک الگ پہلو ہے، لیکن کسی کوچ کے غلط فیصلے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا کھیلوں کی دنیا کے گرتے ہوئے اخلاقی معیار اور فینز کے بڑھتے ہوئے نفسیاتی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ کوریائی فیڈریشن کو اب نہ صرف نیا کوچ لانا ہوگا بلکہ ٹیم کے اندر موجود اختلافات کو بھی ختم کرنا ہوگا۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں کھلاڑیوں پر حملوں کے بھیانک واقعات:
ماضی میں بھی ورلڈ کپ کے دوران یا بعد میں فینز کے اس پاگل پن نے کئی بڑے اور دردناک حادثات کو جنم دیا ہے:
- آندریس اسکوبار کا قتل (1994): فٹ بال کی تاریخ کا سیاہ ترین دن، جب کولمبیا کے دفاعی کھلاڑی اسکوبار سے یو ایس اے کے خلاف میچ میں غلطی سے اون گول (Own Goal) ہو گیا تھا، جس کی پاداش میں وطن واپسی پر ایک نائٹ کلب کے باہر انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
- جنوبی کوریائی ٹیم پر ٹافیوں کا حملہ (2014): یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کوریائی فینز نے غصہ نکالا ہو؛ 2014 کے ورلڈ کپ میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہونے پر جب ٹیم انچیون ایئرپورٹ پہنچی تو فینز نے تذلیل کے طور پر کھلاڑیوں پر روایتی کوریائی ٹافیاں (Yeot) پھینک ماری تھیں، جسے وہاں بدترین توہین سمجھا جاتا ہے۔
- انگلش کھلاڑیوں کو آن لائن دھمکیاں (2021): یورو کپ کے فائنل میں اٹلی کے خلاف پینلٹی شوٹ آؤٹ مس کرنے پر انگلینڈ کے تین سیاہ فام کھلاڑیوں مارکس ریشفورڈ، جاڈن سانچو اور بوکایو ساکا کو برطانوی فینز کی طرف سے شدید نسلی تعصب اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کا یہ ڈراما ابھی ختم نہیں ہوا ہے، لیکن جنوبی کوریا کے لیے یہ سفر اب ایک ڈراؤنا خواب بن کر ختم ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہانگ میونگ بو کے استعفے کے بعد کوریائی فٹ بال کس رخ پر جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment