کوینٹلیئن حسابات اور روایتی چپس کا کمال: انسانی و عسکری پہلو
شینزین میں نصب چین کا یہ نیا شاہکار عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں 1,000 گنا سے بھی زیادہ تیز ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق لائن شائن نے 2.198 ایکزا فلاپس (Exaflops) کی رفتار حاصل کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں 2 کوینٹلیئن (2 کے آگے 18 زیرو) سے زیادہ حسابات (Calculations) کر سکتا ہے۔ اس کمپیوٹر کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کمپیوٹرز گرافکس پروسیسرز (GPUs) پر چلتے ہیں، وہاں چین نے اسے مکمل طور پر روایتی چپس (CPUs) کی مدد سے چلا کر دنیا کو دنگ کر دیا۔ یہ بلاک بسٹر مشین چلنے کے لیے تقریباً 42.2 میگاواٹ بجلی کھاتی ہے۔
یہ سپر کمپیوٹرز صرف نام کے نہیں ہوتے، بلکہ ان کا انسانی اور عسکری پہلو انتہائی گہرا ہے۔ ان کا استعمال دنیا کو تباہی سے بچانے والی ماحولیاتی پیشگوئیوں، کینسر جیسی بیماریوں کے علاج کی دریافت، اور انسانی رویوں کو سمجھنے کے لیے تو ہوتا ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایٹمی دھماکوں کی ورچوئل سمیلیشنز اور جدید ترین خطرناک ہتھیاروں کی خفیہ ٹیسٹنگ کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اپنے سب سے بہترین سپر کمپیوٹر "ایل کیپیٹن" (El Capitan) کو کیلی فورنیا کی نیشنل لیبارٹری میں ہتھیاروں کے دفاع کے لیے رکھا ہوا تھا، جو اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: یورپ کا 20 ارب یورو کا پلان اور ماحولیاتی جنگ
ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ اب صرف امریکہ اور چین تک محدود نہیں رہی۔ یورپ (EU) نے بھی اس میدان میں کودنے کے لیے 20 ارب یورو کا ایک بہت بڑا پلان تیار کیا ہے، جس کے تحت وہ اگلی نسل کے AI ماڈلز بنانے کے لیے "گیگا فیکٹریز" قائم کرے گا۔ ان فیکٹریز میں 100,000 سے زائد ایڈوانس پروسیسرز لگائے جائیں گے۔ تاہم، ان سپر کمپیوٹرز کی سب سے بڑی تاریک حقیقت ان کی بجلی اور پانی کی بے پناہ بھوک ہے۔ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے لاکھوں گیلن پانی اور میگاواٹس بجلی چاہیے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ماحولیاتی ماہرین شدید پریشان ہیں کہ یہ ہائی ٹیک فیکٹریز دنیا کے موسم کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
عالمی سپر کمپیوٹرز کی رینکنگ کی ہسٹری اور ماضی کا ریکارڈ:
ٹیکنالوجی کی اس بساط پر پچھلی ایک دہائی کے دوران کئی اتار چڑھاؤ آئے ہیں، جو اس شعبے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں:
- چینی بالادستی کا ماضی (2013-2017): چین کے سپر کمپیوٹرز "تھائن ہے-2" (Tianhe-2) اور "سن وے تائہو لائٹ" نے مسلسل کئی سالوں تک دنیا کی رینکنگ پر راج کیا تھا، جس کے بعد امریکہ نے کھویا ہوا مقام واپس پانے کے لیے اربوں ڈالرز جھونک دیے۔
- امریکی تسلط کا دور (2018-2025): امریکہ کے سپر کمپیوٹرز جیسے "فرنٹیئر" (Frontier) اور حال ہی میں "ایل کیپیٹن" دنیا کے تیز ترین کمپیوٹرز رہے، جن کا مقصد امریکی جوہری ہتھیاروں کی ڈیجیٹل نگرانی کرنا تھا۔
- موجودہ ٹاپ 5 پوزیشنز (2026): اب دنیا میں صرف 5 تصدیق شدہ "ایکساسکیل" (Exascale) کمپیوٹرز موجود ہیں؛ جن میں چین پہلے، امریکہ دوسرے، تیسرے اور چوتھے، جبکہ جرمنی کا "جوپیٹر" سپر کمپیوٹر پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔
- برطانیہ اور جاپان کی پوزیشن: اس فہرست میں جاپان، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی بھی ٹاپ 10 میں شامل ہیں، جبکہ برطانیہ کا سب سے تیز ترین کمپیوٹر "Isambard-AI" اب دو درجے گر کر 11ویں نمبر پر چلا گیا ہے، جو خاردار تاروں اور لوہے کے کالے پنجرے کے اندر بند ہے۔
ٹیکنالوجی کا یہ میدان اب سائنسی ترقی سے زیادہ عالمی طاقت کا اکھاڑا بن چکا ہے۔ چین کا روایتی چپس کی مدد سے امریکہ کو پچھاڑنا یہ ثابت کرتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر اور چپس پر لگی امریکی پابندیاں بھی بیجنگ کی رفتار کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

Comments
Post a Comment