خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور تلخی کا شکار ہو گیا ہے، جہاں حکومتی ارکان نے اپنی ہی قیادت اور بعض انتظامی پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن یا کمیٹیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں گزشتہ چند روز سے جاری اندرونی سیاسی تناؤ اب کھل کر ایوان کے اندر ابل پڑا ہے، جس سے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
ایوان میں شور شرابا اور نعرے بازی
ذرائع کے مطابق جیسے ہی اسپیکر کی صدارت میں اجلاس کا آغاز ہوا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے کئی ناراض اور برہم حکومتی ارکان نے اپنی ہی صوبائی حکومت کے بعض فیصلوں، ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم اور بیوروکریسی کے من مانے رویے پر شدید احتجاج شروع کر دیا۔ ارکانِ اسمبلی نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شور شرابا کیا اور ایوان میں شدید نعرے بازی کی، جس کے باعث اسپیکر کو بار بار نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کرنی پڑی۔
جب اپوزیشن اور سینئر حکومتی وزراء نے ان ناراض ارکان کو منانے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے معاملات کو میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی پیشکش کی، تو غصے میں آئے ارکان نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔
حکومتی صفوں میں بڑھتی ہوئی دراڑیں
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور صوبائی اراکین کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والی تلخ کلامی اور اب اسمبلی کے اندر یہ شدید احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک یا شدید دھڑے بندی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پشاور سمیت دیگر اضلاع کے منتخب نمائندوں کا گلہ ہے کہ ان کے حلقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کا نقصان انہیں عوامی سطح پر اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اسپیکر اسمبلی نے صورتحال قابو سے باہر ہونے پر اجلاس کو کچھ دیر کے لیے معطل کر دیا، تاہم حکومتی ارکان کے اس سخت موقف نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

Comments
Post a Comment