فلپائن کے شہر تاکلوبان (Tacloban) میں ایک نایاب اور انتہائی دلدوز اسکول فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں دو کم عمر طالب علموں نے کلاس روم کے اندر اندھا دھند گولیاں چلا کر 3 ساتھی طلباء کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 20 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے فوراً بعد فلپائن کی حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے مشہور فرسٹ پرسن شوٹر موبائل گیم "گور بکس" (Gorebox) پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے میں ملوث 14 سالہ مشکوک لڑکا اس انتہائی پرتشدد گیم کا عادی تھا، جس کے بعد آن لائن مواد کے بچوں پر پڑھنے والے منفی اثرات پر عالمی بحث چھڑ گئی ہے۔
"سب کچھ تباہ کر دو" – گیمنگ کا کالا سچ اور کم عمر ملزمان
گوگل پلے اسٹور کی لسٹنگ کے مطابق، جرمن کمپنی 'F2Games' کا بنایا ہوا یہ گیم 'R18' ریٹنگ کا حامل ہے، جس میں کھلاڑیوں کو ہر چیز کو نیست و نابود کرنے اور دھماکہ خیز مواد و ہتھیاروں سے وحشیانہ لڑائی کی کھلی آزادی ہوتی ہے۔ سائبر کرائم انویسٹی گیشن سنٹر کے انڈرسیکرٹری ابوئی پیرائسو کا کہنا ہے کہ ہم اس سانحے میں آن لائن اثرات کو نظر انداز نہیں کر سکتے، اور گیم پر پابندی سے عسکری حکام کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ اس پلیٹ فارم نے بچوں کے ذہنوں کو کتنا متاثر کیا۔ اگرچہ سائنسی تحقیقات ویڈیو گیمز اور تشدد میں براہ راست تعلق ثابت نہیں کرتیں، لیکن فلپائنی پولیس کے مطابق 14 سالہ لڑکا آن لائن پرتشدد مواد شیئر کرنے کا بھی عادی تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی 9 ایم ایم پستول لڑکے کی خالہ کی تھی جو خود پولیس میں ملازم ہیں (اور انہیں معطل کر دیا گیا ہے)۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 14 سالہ لڑکا ملکی قانون کے تحت اتنا چھوٹا ہے کہ اس پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا، جبکہ اس کے 15 سالہ ساتھی پر قتل کی دفعات لگا دی گئی ہیں۔ عینی شاہدین اور دوستوں کے مطابق دونوں لڑکوں نے اسکول کے باتھ روم میں چھپ کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا، اور اس کی بنیادی وجہ اسکول میں ان کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی اور بلینگ (Bullying) بتائی جا رہی ہے۔
کیا انٹرنیٹ ہمارے بچوں کی برین واشنگ کر رہا ہے؟
جدید دور میں جہاں موبائل اور تیز انٹرنیٹ نے آسانیاں پیدا کی ہیں، وہاں یہ بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ایک خاموش زہر بن چکا ہے۔ فلپائنی سینیٹر ریپی ہانٹیوروس نے سینیٹ میں بیان دیا کہ آن لائن پلیٹ فارمز ہمارے نوجوانوں کی "برین واشنگ اور انہیں انتہا پسند" بنانے کے گڑھ بن چکے ہیں۔ تعلیم اور سیکیورٹی کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اب بھی ایسے خونی گیمز اور سوشل میڈیا مواد پر نظر نہ رکھی گئی، تو ایشیائی ممالک میں بھی امریکہ جیسے اسکول شوٹنگ کے خوفناک کلچر اور 'کاپی کیٹ' (دیکھا دیکھی) واقعات کی وبا پھیل جائے گی، جہاں بچے قلم کی جگہ ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔
فلپائن میں بندوق کلچر اور ماضی کے بڑے حادثات کا ریکارڈ:
اگرچہ فلپائن میں کم عمر بچوں کی طرف سے اسکول شوٹنگ کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن ملک کی حالیہ ہسٹری میں گن کرائمز کا ایک خونی ریکارڈ موجود ہے:
- مگئینداناؤ قتلِ عام (نومبر 2009): یہ فلپائن کی تاریخ کا بدترین اجتماعی قتل عام تھا، جہاں ایک مقامی میئر نے سیاسی حریف کے قافلے پر حملہ کر کے صحافیوں سمیت 58 بے گناہ لوگوں کو سرعام گولیوں سے بھون دیا تھا۔
- منیلا بس ہوسٹیج سانحہ (2010): ایک سابق پولیس افسر نے سیاحوں سے بھری بس کو اغوا کر لیا تھا، جس میں پولیس کی ناقص کارروائی کے باعث ہانگ کانگ کے 8 سیاح ہلاک ہو گئے تھے اور ملکی سیکیورٹی پر بڑے سوال اٹھے تھے۔
- کم عمر بچوں تک اسلحہ کی رسائی کا قانون: فلپائن میں گن کنٹرول قوانین موجود ہیں، لیکن سیکیورٹی ایجنسیوں اور لائسنس یافتہ افراد کی غفلت کی وجہ سے گھروں میں موجود لوڈڈ ہتھیار اکثر بچوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں، جس پر ارکانِ پارلیمنٹ نے اب سخت ترین سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹاکلوبان کا یہ سانحہ پوری دنیا کے والدین اور حکومتوں کے لیے ایک بہت بڑا الرٹ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں کی سیکیورٹی کے لیے اسکولوں میں باقاعدہ لائیو ڈرلز کروائی جائیں اور آن لائن دنیا کے بھیڑیوں سے ان کے معصوم ذہنوں کو بچایا جائے۔

Comments
Post a Comment