ایپل اور مائیکروسافٹ کا بڑا فیصلہ اور مارکیٹ کا ردِعمل
اس اچانک کریش کی سب سے بڑی وجہ امریکی ٹیک جائنٹس ایپل (Apple) اور مائیکروسافٹ (Microsoft) کے حالیہ اعلانات بنے ہیں۔ کمپیوٹر چپس اور دیگر الیکٹرانک پرزوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ایپل نے اپنے آئی پیڈز اور میک بکس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا، جس کے بعد امریکی مارکیٹ میں ایپل کے شیئرز 6 فیصد تک گر گئے۔ دوسری طرف مائیکروسافٹ نے بھی اپنے ایکس باکس (Xbox) گیمنگ کنسولز کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرزوں کی مہنگائی کی وجہ سے اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر آنے والے بھاری اخراجات کا بوجھ عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے، جس سے الیکٹرانک ڈیوائسز کی مانگ کم ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بزنس اینالسٹس کے مطابق، بڑی ٹیک کمپنیاں رواں سال آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالرز پانی کی طرح بہا رہی ہیں، لیکن اب سرمایہ کار یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو حقیقت پر مبنی ہے یا یہ صرف ایک عارضی ابال تھا۔ اسی خوف کی وجہ سے جاپان کے بڑے ٹیک انویسٹمنٹ گروپ 'سافٹ بینک' (SoftBank) کے شیئرز میں ساڑھے 12 فیصد کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی اور جاپان کا نکی انڈیکس 4 فیصد سے زیادہ گر کر بند ہوا۔
تبصرہ و تجزیہ: اے آئی (AI) کا خمار اور ٹیک ببل پھٹنے کا خوف
اس پورے مالیاتی زلزلے پر گہرا معاشی تجزیہ یہ بنتا ہے کہ وال اسٹریٹ اور عالمی مارکیٹس پچھلے کچھ مہینوں سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے نام پر لگی اندھی دوڑ کا شکار تھیں۔ کمپنیوں کی ویلیویشنز ان کی حقیقی کمائی سے کہیں زیادہ بڑھ چکی تھیں۔ اب جب چپس اور پرزے مہنگے ہو رہے ہیں اور گاہکوں کی قوتِ خرید جواب دے رہی ہے، تو سرمایہ کار اپنا منافع نکال کر بھاگ رہے ہیں۔ ہسٹری گواہ ہے کہ جب بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں کسی چیز کا ضرورت سے زیادہ ہائپ (Hype) بنایا جاتا ہے، تو بعد میں مارکیٹ اسی طرح کریش کرتی ہے۔ یہ کریش اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب سرمایہ کار صرف نام پر نہیں بلکہ ٹھوس منافع اور حقیقت پسندانہ بزنس ماڈل دیکھ کر ہی پیسہ لگائیں گے۔
عالمی سٹاک مارکیٹس کے بڑے کریشز کا ہسٹری ریکارڈ:
ٹیکنالوجی انڈسٹری اور عالمی مارکیٹس میں آنے والے ایسے بڑے بحرانوں کا ریکارڈ کچھ اس طرح ہے:
- ڈاٹ کام ببل (2000): جب انٹرنیٹ کمپنیوں کے شیئرز بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے آسمان پر پہنچ گئے تھے اور ببل پھٹنے سے کھربوں ڈالرز ڈوب گئے تھے اور انڈسٹری سالوں پیچھے چلی گئی تھی۔
- عالمی مالیاتی بحران (2008): لیہمین برادرز کے ڈوبنے سے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں اسی طرح سرکٹ بریکر لگے تھے اور عالمی معیشت بدترین کساد بازاری کا شکار ہوئی تھی۔
- کورونا کریش (2020): مارچ 2020 میں وباء کے خوف سے امریکی اور ایشیائی مارکیٹس میں پینک سیلنگ ہوئی تھی اور ایک ہی ہفتے میں کئی بار ٹریڈنگ کو ہنگامی طور پر روکنا پڑا تھا۔
ایشیائی مارکیٹس کا یہ حالیہ کریش عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا الرٹ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیر کے روز جب امریکی اور یورپی مارکیٹس دوبارہ کھلیں گی، تو یہ ٹیک ببل مزید بیٹھتا ہے یا مارکیٹ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Comments
Post a Comment