برطانیہ: معصوم بیٹے کو دودھ میں زہر ملا کر قتل کرنے پر سنگدل ماں کو عمر قید کی سزا

Emma Barnett from Essex jailed for life over the tragic poisoning and murder of her 14-month-old son Oakley
برطانیہ کی ایک عدالت نے اپنی ہی ممتا کا گلا گھونٹنے والی سفاک ماں کو ایک سال کے معصوم بیٹے کو فیڈر میں زہریلی ادویات ملا کر قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ 36 سالہ ملزمہ ایما بارنیٹ نے یہ ہولناک قدم اس وقت اٹھایا جب فیملی کورٹ نے اس کے 14 ماہ کے بیٹے اوکلے کو اس کی تحویل سے لے کر چائلڈ کیئر کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ نے جان بوجھ کر یہ گھناؤنا جرم کیا۔

فیملی کورٹ کے فیصلے کے بعد بچے کو چھپا کر زہر دیا

کیمبرج کراؤن کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جج نے بتایا کہ ملزمہ ایما بارنیٹ کو معلوم تھا کہ عدالت اس سے بچے کی تحویل واپس لے رہی ہے۔ عدالتی کارروائی کے فوراً بعد وہ اپنے بچے کو لے کر غائب ہو گئی اور اپنے ہی گھر کے اسٹور روم (لوفٹ) میں چھپ گئی۔ وہاں اس نے معصوم اوکلے کے فیڈر میں شدید نشہ آور اور ذہنی دباؤ کی ادویات (ڈراپس) ملا کر اسے پلا دیں، جس سے بچے کی حالت غیر ہو گئی۔

دوسری طرف پولیس اور سوشل ورکرز بچے کو تلاش کر رہے تھے۔ پولیس نے شک گزرنے پر جب رات گئے ملزمہ کے گھر پر چھاپہ مارا تو اوپر چھت کے حصے سے بچے کے رونے کی ہلکی سی آواز آئی۔ جب پولیس نے ملزمہ سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے اسے مار دیا ہے"۔ پولیس نے فوری طور پر دروازہ توڑ کر بچے کو ہسپتال منتقل کیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔

عدالت کا فیصلہ اور ملزمہ کا ماضی

کیس کی مکمل سماعت کے بعد عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ نے یہ سب کچھ پہلے سے پلان کر رکھا تھا، اس واقعے کے دوران برطانوی عدالت نے درج ذیل اہم نکات سامنے رکھے:

  • کم از کم 22 سال جیل: عدالت نے ملزمہ ایما بارنیٹ کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے حکم دیا کہ وہ کم از کم 22 سال سے پہلے ضمانت پر رہا نہیں ہو سکے گی۔
  • ذہنی صحت کے مسائل: عدالتی کارروائی میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمہ ذہنی طور پر بیمار تھی اور اس کے پہلے 5 بچے بھی ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے حکومت نے اس کی تحویل سے لے لیے تھے۔
  • سفاکانہ سوچ: جج نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ نے سوچ لیا تھا کہ اگر یہ معصوم بچہ اسے نہ ملا تو وہ اسے کسی اور کو بھی نہیں ملنے دے گی۔

برطانیہ میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر بچوں کے حقوق اور ذہنی مریض والدین کے پاس بچوں کی موجودگی کے حوالے سے برطانوی نظام پر بحث چھیڑ دی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Essex Woman Jailed for Life for Poisoning Baby Son With Cocktail of Drugs


ESSEX: A British court has sentenced 36-year-old Emma Barnett to life imprisonment with a minimum term of 22 years for murdering her 14-month-old son, Oakley. The mother poisoned her infant with a lethal cocktail of prescription medications added to milk in his baby bottle to prevent him from being taken into social care following a family court order.

A Tragic Custody Execution

According to Cambridge Crown Court, Barnett hid in her loft with Oakley after a family court hearing ordered the toddler's removal. She mixed promethazine and mirtazapine into his baby bottles. Police located them shortly before midnight, discovering the unresponsive child after Barnett confessed to an officer, saying, "I killed him." The infant tragically passed away in the hospital weeks later.

Court Assessment

Mr Justice Derek Sweeting noted that Barnett had planned the act beforehand out of a desperate mindset that "if she could not have Oakley, no one else could." The court acknowledged her previous history of mental health disorders, noting her five older children had already been removed from her care.

Comments