حکومتی مہم جوئی پر عوامی غیظ و غضب: "حکومت ہمارے لیے ختم ہو چکی"
تباہی کے اس حساس موڑ پر عوام کا غصہ اس وقت پھٹ پڑا جب عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز (Delcy Rodriguez) نے کاراکاس کے متاثرہ علاقے چاکاؤ (Chacao) کا دورہ کیا۔ وہاں موجود شہریوں نے صدر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نعرے بازی کی اور کہا، "آپ اس انسانی المیے اور سانحے کے بیچ اپنی سیاسی مہم چلا رہی ہیں! حکومت عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔" ایک مقامی موسیقار زائرہ کاسترو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہم ایک دوسرے کی مدد خود کر رہے ہیں، ہمارے لیے اب حکومت نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔"
سب سے بدترین صورتحال ساحلی شہر لاگوائرا کی ہے جہاں 100 سے زائد عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر چکی ہیں اور پورا شہر کسی قیامت کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مقامی ہسپتال، جو دہائیوں سے فنڈز کی کمی اور بدترین انفراسٹرکچر کا شکار تھے، اب زخمیوں کی تعداد کے باعث مکمل طور پر چوک ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹرز اور نرسیں بغیر کسی مناسب سامان کے لاشوں اور زخمیوں کو سنبھالنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف، مقامی اور بین الاقوامی ریسکیو ٹیمیں دن رات ملبہ ہٹانے اور لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں، جہاں سے کچھ افراد کو زندہ نکالنے کی لائیو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر لوگوں کی آنکھیں نم کر رہی ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: معاشی بدحالی، خستہ حال نظام اور قدرتی آفت کا گٹھ جوڑ
اس ہولناک سانحے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ وینزویلا گزشتہ کئی برسوں سے بدترین معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ جب ایک ایسا ملک جہاں پہلے ہی بنیادی صحت، بجلی، اور پبلک انفراسٹرکچر وینٹی لیٹر پر ہو، وہاں اس نوعیت کا ڈبل زلزلہ آنا رہی سہی کسر بھی نکال دیتا ہے۔ زلزلے عمارتیں نہیں گراتے، بلکہ خستہ حال تعمیرات اور ہیلتھ سسٹم کی ناکامی اموات کی اصل وجہ بنتی ہے۔ کاراکاس کی یہ تباہی ثابت کرتی ہے کہ جب تک ریاستیں اپنی سیاسی جنگوں سے باہر نکل کر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فنڈز اور انفراسٹرکچر پر کام نہیں کرتیں، تب تک قدرتی آفتیں اسی طرح انسانی جانوں کا قبرستان بنتی رہیں گی۔
لاطینی امریکہ میں آنے والے بڑے زلزلوں کی ہسٹری:
وینزویلا اور اس کے قریبی لاطینی امریکی ممالک میں زلزلوں اور ان کے بعد پیدا ہونے والے بدترین انسانی بحرانوں کا ریکارڈ ہمیشہ سے خوفناک رہا ہے:
- ہیٹی کا ہولناک زلزلہ (2010): لاطینی امریکہ کی تاریخ کا بدترین زلزلہ جس میں 2 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے اور کمزور حکومتی نظام کے باعث ملک آج تک اس تباہی سے باہر نہیں نکل سکا۔
- چلی کا زلزلہ (2010): 8.8 شدت کے اس زلزلے نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ کیا، لیکن چلی کے مضبوط عمارتی قوانین کی وجہ سے جانی نقصان ہیٹی کے مقابلے میں بہت کم ہوا تھا۔
- وینزویلا کاراکاس زلزلہ (1967): ماضی میں بھی کاراکاس 6.6 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا تھا جس میں متعدد فلک بوس عمارتیں گر گئی تھیں اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وینزویلا کے اس مشکل ترین وقت میں جہاں بین الاقوامی امداد کی سخت ضرورت ہے، وہیں یہ المیہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک سبق ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کتنی لازمی ہے۔

Comments
Post a Comment