امریکہ اور ایران میں خونی معرکہ! آبنائے ہرمز میں حملے، کویت اور بحرین پر میزائلوں کی برسات

Military jets and missile defense systems representing the escalation between US and Iran
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر براہِ راست ہولناک حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (Centcom) کے مطابق، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ایک پاناما کے جھنڈے والے تجارتی جہاز "ایم ٹی کِکو" پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں امریکی فائٹر جیٹس نے ایران کے اندر اور ارد گرد 10 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ایئر ڈیفنس سائٹس، کمیونیکیشن سسٹم اور ڈرون اسٹوریج شامل ہیں۔ اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کویت میں قائم امریکی بیس 'علی السالم' اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغ کر تباہی مچانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد کویت اور بحرین میں ایئر ڈیفنس سسٹم ایکٹو ہو گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ٹرمپ کی ہلا دینے والی دھمکی: "اگر ایسا ہوا تو ایران کا وجود ختم ہو جائے گا"

ان حملوں کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک انتہائی جارحانہ اور سنسنی خیز بیان جاری کیا ہے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ یہ بہت ممکن ہے کہ تہران کبھی نہ سدھرے۔ انہوں نے کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا: "ایک ایسا وقت آ سکتا ہے جب ہم مزید نرمی دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور ملٹری کے ذریعے اس کام کو مکمل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جو ہم نے کامیابی سے شروع کیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو ایران کی اسلامی جمہوریہ کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا!" دوسری طرف امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی میزائلوں سے کویت اور بحرین میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حال ہی میں ہونے والے 14 نکاتی معاہدے (MoU) اور سیز فائر کی بدترین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کو جنگ بندی کا موقع دیا گیا تھا لیکن اس نے تجارتی جہازوں پر حملے کر کے اسے سبوتاژ کیا۔ دوسری طرف ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فورسز نے پہلے ایرانی ساحلی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس کا کرشنگ جواب دیا گیا۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کر دیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز کی انتظامیہ کبھی بھی ماضی کی طرح نہیں رہے گی اور قانون توڑنے والے جہازوں کے خلاف اب اس سے بھی زیادہ سختی برتی جائے گی۔

تبصرہ و تجزیہ: آبنائے ہرمز کا لاک ڈاؤن اور عالمی معیشت پر خودکش حملہ

اس پوری فوجی جھڑپ پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ سب سے اہم تجارتی رگ ہے جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ جب بھی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، ایران اسٹریٹیجک کارڈ کھیلتے ہوئے اس راستے کو بند کرنے یا جہازوں پر ٹیکس (Tolls) لگانے کی دھمکی دیتا ہے۔ اگر یہ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو گئی تو دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات اور فرٹیلائزرز کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر پڑے گا۔ ٹرمپ کا یہ سمجھنا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر ایران کو جھکا لیں گے، زمینی حقائق کے برعکس ہے کیونکہ خلیج فارس میں امریکی تنصیبات اب ایرانی میزائلوں کی آسان زد میں ہیں۔

خلیج فارس اور پاک امریکہ ایران تنازع کا پسِ منظر:

آبنائے ہرمز اور امریکہ ایران کے درمیان حالیہ خونی تاریخ اور معاشی جنگ کے اہم ترین مہروں کا ریکارڈ:

  • امریکہ اسرائیل مشترکہ حملے: رواں سال فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور عالمی مارکیٹ میں تیل کا بحران پیدا ہوا تھا۔
  • تجارتی جہازوں پر حملے: 25 جون کو سنگاپور کے کارگو جہاز 'ایم وی ایور لولی' پر ڈرون حملے کے بعد بھی امریکہ نے ایران پر جوابی حملے کیے تھے، ایران کا دعویٰ تھا کہ جہاز غیر قانونی راستے سے گزر رہا تھا۔
  • 60 روز کا سیز فائر معاہدہ: دونوں ممالک کے درمیان 17 جون کو ایک 14 نکاتی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایران کو 60 دنوں کے لیے تجارتی جہازوں کو بغیر کسی ٹیکس یا فیس کے محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا، جو اب خطرے میں پڑ چکا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں لگی یہ آگ اگر نہ بجھائی گئی تو یہ ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمان کی ثالثی اور سفارت کاری اس جنگ بندی کو بچا پاتی ہے یا ٹرمپ کی دھمکی کے بعد خطہ ایک ہولناک تباہی کی طرف بڑھ جائے گا۔


⬇️ Click to Read this International Conflict Story in English

US and Iran Exchange Heavy Air Strikes, Trade Accusations Over Ceasefire Violations


WASHINGTON/TEHRAN: The military conflict in the Middle East has escalated dramatically as US forces and Iran’s IRGC exchanged direct missile and drone strikes, accusing each other of violating the June 17 ceasefire agreement. US Centcom conducted airstrikes on 10 military targets inside Iran following a drone attack on a Panama-flagged tanker in the strategic Strait of Hormuz. In retaliation, Iran fired ballistic missiles targeting US naval infrastructure in Kuwait and Bahrain.

Trump Warns of Complete Existence Threat to Iran

Following the volatile crossfire, Donald Trump posted a fierce warning on Truth Social, stating that if military action is forced to "complete the job," the Islamic Republic of Iran will no longer exist. While US officials reported no American casualties at Kuwait's Ali al-Salem base or Bahrain's Fifth Fleet, air defense systems were heavily activated in both Gulf nations, plunging the vital global oil transit channel into an unmitigated security crisis.

Comments