پچیس کروڑ کا فنڈ، کارپوریٹ کلچر اور کونسل کی مخالفت
میئر لندن نے رواں سال کے سیزن کے لیے لندن کے 13 مختلف اضلاع (Boroughs) میں آؤٹ ڈور ڈائننگ، نائٹ مارکیٹس اور لائیو میوزک کے فروغ کے لیے تقریباً 5 لاکھ پاؤنڈز (ساڑھے 16 کروڑ روپے سے زائد) کے فنڈز جاری کیے ہیں۔ بارکنگ، برینٹ، گرینچ اور لیمبتھ جیسے علاقوں میں سڑکیں بند کر کے اسٹریٹ فوڈ اور ومبلڈن اسکریننگ جیسے بڑے ایونٹس ہو رہے ہیں۔ لیکن لندن کے سب سے بڑے ہب 'سوہو' میں مقامی ویسٹ منسٹر کونسل اور رہائشیوں کی تنظیم 'سوہو سوسائٹی' نے شور شرابے، کرائم اور صفائی کے مسائل کا بہانہ بنا کر اس اسکیم کو بلاک کر دیا تھا، جس پر صادق خان نے کڑا ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ کورونا وبا کے دوران جب سوہو کی سڑکیں گاڑیوں کے لیے بند کر کے وہاں آؤٹ ڈور ریسٹورنٹس کھولے گئے تھے، تو لندن کا یہ حصہ یورپ کے کسی گلیمرس شہر جیسا دکھنے لگا تھا جس سے ہاسپیٹلٹی انڈسٹری کو اربوں کا فائدہ ہوا۔ اب کونسل کا اسے روکنا بزنس دشمنی تصور کیا جا رہا ہے۔ صادق خان کو حکومت کی طرف سے ملنے والے نئے اسٹریٹجک لائسنسنگ اختیارات اب انہیں یہ طاقت دیتے ہیں کہ وہ لوکل کونسل کے فیصلوں کو پسِ پشت ڈال کر بزنسز کو سڑکوں پر سیٹیں لگانے کی اجازت دے سکیں تاکہ لندن کی نائٹ لائف کو بچایا جا سکے۔
لندن اور یورپ میں پیڈسٹرینائزیشن (سڑکیں بند کرنے) کی ہسٹری:
دنیا بھر کے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز کو گاڑیوں سے پاک کر کے پیدل چلنے والوں کے لیے کھولنے کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے:
- لندن آکسفورڈ اسٹریٹ پروجیکٹ: لندن کی سب سے مصروف ترین کاروباری سڑک آکسفورڈ اسٹریٹ کو بھی مکمل طور پر پیڈسٹرین (صرف پیدل چلنے والوں کے لیے) بنانے کا منصوبہ کئی سالوں سے زیرِ بحث رہا ہے، جس پر میئر آفس اور کونسل میں ٹھنی رہتی ہے۔
- پیرس کا 'پندرہ منٹ سٹی' ماڈل: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی میئر این ہیڈالگو نے شہر کے مرکز سے گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے کیفے کلچر اور سائیکلنگ کو فروغ دیا، جس سے وہاں کی معیشت اور ماحولیات میں زبردست بہتری آئی۔
- ٹائمز اسکوائر نیویارک (2009): نیویارک کے مشہورِ زمانہ ٹائمز اسکوائر کو بھی ماضی میں گاڑیوں کے لیے بند کر کے وہاں آؤٹ ڈور بیٹھنے کی جگہیں بنائی گئی تھیں، جس کی ابتدا میں شدید مخالفت ہوئی لیکن بعد میں وہ نیویارک کی پہچان بن گیا۔
میئر صادق خان کا یہ اقدام لندن کو ایک جدید اور نائٹ لائف فرینڈلی گلوبل سٹی بنانے کی کڑی ہے، جہاں ہاسپیٹلٹی انڈسٹری (یوکے ہاسپیٹلٹی) نے بھی اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2027 میں ویسٹ منسٹر کونسل اس فیصلے کے خلاف کیا قانونی راستہ اپناتی ہے۔

Comments
Post a Comment